بھریا سٹی (رپورٹ: مجاہد علی مغل)
سندھ کے دیگر شہروں کی طرح بھریا سٹی میں بھی پبلک اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن (پ ٹ الف) تعلقہ بھریا کے زیراہتمام اساتذہ کا سروس اسٹرکچر بحال نہ ہونے اور دیگر درینہ مسائل کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی. ریلی پرائمری اسکول بھریا سٹی سے شروع ہوکر پریس کلب پہنچی، جہاں اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی اور احتجاج کیا۔احتجاجی ریلی کی قیادت پ ٹ الف تعلقہ بھریا کے صدر استاد غلام مصطفیٰ سولنگی، نائب صدر استاد رانجھو خان وسطڑو، جنرل سیکریٹری علی شان راجپوت اور استاد عبدالحفیظ دونئرو نے کی۔اس موقع پر اساتذہ رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر کے تقریباً سوا لاکھ اساتذہ گزشتہ دو سال سے اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے مسلسل سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، لیکن متعلقہ حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ تقرری کے باوجود اساتذہ کو تاحال مستقل نہیں کیا جا رہا، جبکہ سروس اسٹرکچر بحال نہ ہونے کے باعث اساتذہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات فوری طور پر منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ انہوں نے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آج تعلقہ سطح پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے، کل ضلعی سطح پر احتجاج کیا جائے گا، جبکہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ بڑھا کر کراچی تک پھیلا دیا جائے گا۔اس کے علاوہ اساتذہ رہنماؤں نے بائیومیٹرک حاضری کے لیے "فیس اسکیننگ” کے طریقۂ کار پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ تکنیکی خرابی یا چہرہ اسکین نہ ہونے کی وجہ سے اکثر حاضر اساتذہ کو بھی غیر حاضر ظاہر کر دیا جاتا ہے، جس سے انہیں مالی اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ فیس اسکیننگ کا یہ ناقص نظام فوری ختم کرکے حاضری کے لیے کوئی قابلِ اعتماد اور متبادل طریقہ کار نافذ کیا جائے۔مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ اساتذہ کے مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے، اساتذہ کو مستقل کیا جائے اور حاضری کے نظام سے متعلقہ تحفظات کو دور کیا جائے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔


