پشاور (
خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم اور فیصلہ کن پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت سہیل آفریدی کی دوبارہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر واپسی کے حوالے سے گردش کرنے والی تمام قیاس آرائیاں اور امکانات دم توڑ گئے ہیں۔ سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔باخبر سیاسی ذرائع کے مطابق موجودہ سیاسی حالات، آئینی تقاضوں اور پارلیمانی گنتی کے تناظر میں اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ سہیل آفریدی کے لیے وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر واپسی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں قانونی اور آئینی پیچیدگیاں اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہیں۔اس اہم پیشرفت کے بعد صوبے کے سیاسی منظرنامے میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد اب تمام جماعتیں اور رہنما صوبے میں حکومت سازی، آئندہ کی حکمت عملی اور نئے سیاسی اتحادوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔عوام اور سیاسی مبصرین کی نگاہیں اب صوبائی اسمبلی کے آئندہ کے فیصلوں اور سیاسی جماعتوں کے آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ صوبہ کس سمت آگے بڑھتا ہے۔

