پشاور (انورزیب خان)
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں سیاسی کشیدگی شدید ترین شکل اختیار کر گئی ہے۔ معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں، اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، تعلیمی ادارے بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی نے عام شہریوں اور مسافروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔11 اکتوبر 2026 کو صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا جواز بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں اور صوبائی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر اختلافات کو قرار دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس آئینی اقدام کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔گورنر راج کے پہلے روز پشاور کے مختلف علاقوں میں کنٹینرز لگا کر اہم راستے بند کیے گئے۔ بی آر ٹی (BRT) سروس معطل رہنے اور تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث طلبہ، والدین اور ملازمین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق 12 اکتوبر کو پشاور سمیت صوبے کے بعض دیگر اضلاع میں بھی اسکول، کالج اور جامعات بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی سمیت متعدد اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تاہم، دستیاب اطلاعات کے مطابق ان رہنماؤں کی گرفتاری کی باضابطہ سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔پارٹی رہنماؤں نے اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور گورنر راج، ایمرجنسی اور مبینہ گرفتاریوں کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کارکنوں اور قیادت کا مؤقف ہے کہ منتخب قیادت کو ہٹانے سے صوبے کے سیاسی بحران میں مزید شدت آئے گی۔خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی، بدامنی اور سکیورٹی خدشات پہلے ہی عوام کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا گورنر راج اور سخت انتظامی اقدامات سے امن قائم ہو سکے گا یا سیاسی محاذ آرائی اور عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا؟عوام کو دہشت گردی سے تحفظ، محفوظ راستوں، بحال تعلیمی اداروں اور بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومتی اقدامات سے تعلیمی سرگرمیاں، کاروبار اور آمدورفت متاثر ہوتی ہیں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان طلبہ، مزدوروں اور کاروباری طبقے کو اٹھانا پڑے گا۔سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتیں عوامی اعتماد حاصل کرنے کے بجائے طاقت اور انتظامی پابندیوں پر انحصار کریں تو اس سے ان کی سیاسی ساکھ مزید متنازع ہو جاتی ہے۔ پشتون، بلوچ اور سندھی قوم پرست حلقوں میں جمہوری حقوق اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کا مطالبہ ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔اب سب کی نظریں وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ اور سیاسی قیادت کے اگلے قدم پر ہیں کہ آیا وہ صوبے کو اس شدید سیاسی و انتظامی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا عام شہری بدستور اس کشیدگی کی قیمت چکاتے رہیں گے۔ پائیدار امن اور استحکام کے لیے عوامی مینڈیٹ اور قانون کی یکساں عمل داری کا احترام ناگزیر ہے۔


