اسلام آباد: پاکستان 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ پر محیط آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) پروگرام کے آخری سال میں داخل ہو رہا ہے، جہاں معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری کے بعد ملک کے پاس آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر شامل کر کے مجموعی مائع ذخائر تقریباً 26.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔مرکزی بینک کے موجودہ ذخائر تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیںملک نے بین الاقوامی سرمایہ کاری مارکیٹوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔سروسز اور تجارتی برآمدات کے ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر میں تسلسل نے مالیاتی پوزیشن کو مضبوط کیا ہے:انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی سی ٹی (ICT) کی برآمدات سالانہ 20 فیصد سے زائد کے اضافے کے ساتھ مالی سال 2026 میں 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔خدمات کی مجموعی برآمدات 10 ارب ڈالر کا ہدف عبور کر گئی ہیں۔اگرچہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں بہتری آئی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث تجارتی خسارہ ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ پاکستان اس وقت 5 سالہ تجارتی لبرلائزیشن پروگرام کے دوسرے سال میں ہے، جس کے اثرات اگلے 2 سے 3 برسوں میں برآمدات میں مزید اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی کی صورت میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ماہرین معیشت کے مطابق اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آئندہ نیا قرض پروگرام نہ لینے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:ٹیکس اصلاحات کے ذریعے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں اضافہ اور غیر ٹیکس شدہ شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا۔پاور سیکٹر کے گردشی قرضے (Circular Debt) پر قابو پانا اور بجلی و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا۔ٹیکسٹائل کے علاوہ زرعی اجناس، آئی ٹی، اور انجینئرنگ کے شعبوں کی برآمدات کو تیز تر کرنا۔ساختاتی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رہنے کی صورت میں پاکستان بیرونی مالیاتی دباؤ سے نکل کر پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
پاکستانی معاشی پوزیشن بہتر، آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کاسنہری موقع

