امریکہ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے ہیں۔ اس ایئربیس کا استعمال امریکی فوج نے ایران پر حملے کے لیے کیا تھا۔ امریکہ نے یہ فیصلہ برطانیہ میں اس ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کی سازش کی تحقیقات کے درمیان لیا ہے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی بمبار طیاروں کو واپس امریکہ میں ان کے فوجی اڈوں پر بھیج دیا گیا ہے۔ ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ اطلاع دی۔ملٹری ایئر ٹریکنگ الائنس جیسے طیاروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے گروپوں نے ایران جنگ شروع ہونے کے ابتدائی دنوں سے آر اے ایف فیئر فورڈ پر درجنوں بی-52 اور بی-1 بمبار طیاروں کو دیکھا تھا۔ اتوار کو بھی کئی بی-1 بمبار طیاروں نے اس ایئربیس سے پرواز کی۔ آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس لندن سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ امریکہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں اس ایئربیس کا استعمال کرتا رہا ہے۔امریکہ نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے ہیں۔ اس ایئربیس کا استعمال امریکی فوج نے ایران پر حملے کے لیے کیا تھا۔ امریکہ نے یہ فیصلہ برطانیہ میں اس ایئربیس پر دہشت گردانہ حملے کی سازش کی تحقیقات کے درمیان لیا ہے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے مطابق امریکی بمبار طیاروں کو واپس امریکہ میں ان کے فوجی اڈوں پر بھیج دیا گیا ہے۔ ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ اطلاع دی۔ملٹری ایئر ٹریکنگ الائنس جیسے طیاروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے گروپوں نے ایران جنگ شروع ہونے کے ابتدائی دنوں سے آر اے ایف فیئر فورڈ پر درجنوں بی-52 اور بی-1 بمبار طیاروں کو دیکھا تھا۔ اتوار کو بھی کئی بی-1 بمبار طیاروں نے اس ایئربیس سے پرواز کی۔ آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس لندن سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ امریکہ کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں اس ایئربیس کا استعمال کرتا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر نئے حملے کرنے سمیت کئی متبادل اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ہفتہ کے روز وائٹ ہاؤس سے اوہیو میں ریلی کے لیے روانہ ہوتے وقت انہوں نے کہا کہ ایران مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ اب فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کے ساتھ آسان راستہ اختیار کیا جائے یا سخت قدم اٹھایا جائے۔ ٹرمپ نے ابتدا میں امریکی عوام سے کہا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی صرف چند ہفتوں تک چلے گی۔دوسری جانب، امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ جمعرات کو ایک امریکی عہدیدار نے بتایا تھا کہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ طیارہ بردار جہاز اور یو ایس ایس میکن آئی لینڈ کی قیادت میں جنگی جہازوں کا ایک گروپ اس خطے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس گروپ میں 7,000 سے زیادہ بحری اہلکار اور 2,000 میرینز شامل ہیں۔ اکتوبر کے آخر تک مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے 3 طیارہ بردار جہاز تعینات ہو سکتے ہیں۔
امریکہ نے برطانیہ کے ایئربیس سے اچانک سبھی ’بمبار طیارے‘ کیوں ہٹا لیے؟

