فلائی دبئی طیارہ حادثے کی جاری تحقیقات میں ایک سنسنی خیز اور حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق طیارے کا ہدف نائن الیون (ورلڈ ٹریڈ سینٹر) کے طرز پر اسرائیل کی ایک مشہور و معروف عمارت کو بنانا تھا۔تفتیشی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، فلائیٹ کے روٹ اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس) کی جانچ پڑتال کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ طیارے کی سمت اور نچلی پرواز کے اشارے کسی اہم اور حساس ہدف کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ حادثے سے چند لمحات قبل پیدا ہونے والی صورتحال اور ڈیوائسز کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے ایک منظم منصوبہ بندی شامل ہو سکتی ہے جس کا مقصد اسرائیل کی ایک بلند و بالا تجارتی عمارت کو تباہ کرنا تھا۔سیکیورٹی اداروں اور ایوی ایشن ماہرین نے اس انکشاف کے بعد واقعے کی تمام جہتوں سے تفتیش تیز کر دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ تکنیکی خرابی اور پائلٹ کی غلطی کا نتیجہ تھا یا اس میں کوئی بیرونی مداخلت یا سیکیورٹی کی سنگین ناکامی شامل تھی۔دوسری جانب، متعلقہ حکام نے تاحال اس رپورٹ پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی نتائج اور بلیک باکس کی مکمل ڈیکوڈنگ کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
اسرائیلی عمارت کو نائن الیون کی طرز پر نشانہ بنانے کا منصوبہ؟ فلائی دبئی طیارے کی حادثاتی تفتیش میں بڑا دعویٰ

