سیالکوٹ:ـسلیم احمد اعوان شیخو۔صوبائی محتسب پنجاب عائشہ حامد نے کہا ہے کہ صوبائی محتسب پنجاب کے ادارے نے گزشتہ 30 سال کے دوران عوام کو بلا معاوضہ انصاف اور شکایات کے ازالے کی سہولت فراہم کرتے ہوئے کم وسائل رکھنے والے اور کمزور آواز کے حامل شہریوں کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ادارے کی کوشش ہے کہ جدید ڈیجیٹل نظام، مؤثر نگرانی، تربیت اور بین الاقوامی معیار کے ذریعے عوامی شکایات کے ازالے کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور مؤثر بنایا جائے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ میں صوبائی محتسب پنجاب کے دفتر کی 30 سالہ تقریبات کے سلسلہ میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی محتسب پنجاب کی ایڈوائزر کیپٹن (ر) عطاء محمد خان، صدر ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ خاور سپال اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میونسپل سروسز میاں سرمد حسین سمیت دیگر افسران، صنعت کاروں اور متعلقہ شخصیات موجود تھیں۔
صوبائی محتسب پنجاب نے کہا کہ محتسب کا ادارہ ان شہریوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے جو مہنگے عدالتی نظام، وکیل کی فیس اور طویل قانونی کارروائی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ عام طور پر محتسب کے پاس آنے والے شکایت کنندگان میں کم وسائل رکھنے والے، کم پڑھے لکھے اور ایسے افراد شامل ہوتے ہیں جن کی آواز متعلقہ اداروں تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ پاتی۔ انہوں نے کہا کہ مفت سروس کی فراہمی کے باعث محتسب کا ادارہ ایسے شہریوں کے لیے ان کے وکیل کا کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2024 میں صوبائی محتسب پنجاب کے دفتر کو 33 ہزار 377 شکایات موصول ہوئیں، تاہم آبادی کے تناسب سے یہ تعداد کم تھی کیونکہ صوبے میں شہریوں کو مختلف نوعیت کے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر معاملات میں فریقین کی مشترکہ سماعت کے دوران ہی مسائل حل ہو جاتے ہیں، جس سے طویل کارروائی اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکتا ہے۔
عائشہ حامد نے بتایا کہ 2025 میں شکایات کے ازالے کے لیے آگاہی اور رسائی کی مہم کو وسیع کیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 73 ہزار شکایات سنی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے نے اپنی استعداد کار میں اضافے کے لیے ایڈوائزرز اور متعلقہ عملے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ آپریشنل عملے کے 303 افراد کے ٹائپنگ ٹیسٹ سمیت مختلف نوعیت کی کارکردگی جانچنے کے اقدامات کیے گئے، جبکہ پیشیوں اور کارروائی کے عمل کی ویڈیو کے ذریعے تربیت دی گئی اور ادارے کارکردگی کی بنیاد پر ملازمین کی ترقی، تربیت یا دیگر انتظامی اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 کے دوران تقریباً 22 ہزار شکایات زیر التوا تھیں، جنہیں مؤثر انتظامی اقدامات کے ذریعے کم کیا گیا اور اب زیر التوا شکایات کی تعداد صرف 26 رہ گئی ہے۔ موجودہ سال میں تقریباً 60 ہزار شکایات رجسٹرڈ ہو چکی ہیں جبکہ ماہانہ اوسطاً 7 ہزار شکایات موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث سال کے اختتام تک شکایات کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
صوبائی محتسب نے بتایا کہ شکایات کی رجسٹریشن اور ان پر ہونے والی تمام کارروائی کو ان ہاؤس ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے مربوط کیا گیا ہے۔ شکایت کے اندراج سے لے کر کارروائی اور پیش رفت تک تمام مراحل اسی ڈیجیٹل نظام کے تحت مانیٹر کیے جا رہے ہیں، جس سے شفافیت، رفتار اور نگرانی کے عمل میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی محتسب پنجاب کے 39 دفاتر کو آئی ایس او 9001 سرٹیفکیشن حاصل ہو چکی ہے، جبکہ ڈیٹا سیکیورٹی اور کمپلینٹ ہینڈلنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئی ایس اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی معیارات کے حصول پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کا مقصد عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو مسلسل بہتر بنانا اور بین الاقوامی سطح کے معیار تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض علاقائی دفاتر میں ایک ہی عملے کے افراد 20،20 سال سے تعینات تھے، اس لیے انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے عملے کی مختلف دفاتر میں منتقلی اور تربیت کا عمل بھی جاری رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں تربیت اور استعداد کار میں اضافے کو مستقل عمل کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔
عائشہ حامد نے بتایا کہ انہیں ایشیائی خطے کی علاقائی ڈائریکٹر منتخب کیا گیا ہے اور وہ انٹرنیشنل اومبڈز مین انسٹی ٹیوشن (IOI) میں فرسٹ وائس پریزیڈنٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پلیٹ فارم پر پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف ممالک کے محتسب اداروں کے تجربات کا مشاہدہ اور ان سے سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی او آئی کے ارکان کو پنجاب کے محتسب ادارے کے کام کا مشاہدہ کرنے اور تجربات سے استفادہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ترکی، آذربائیجان، جنوبی کوریا، فلپائن سمیت مختلف ممالک کے دوروں کے دوران محتسب کے نظام اور عوامی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی مندوبین نے پنجاب کے محتسب ادارے کی جانب سے اختیار کیے گئے بعض اقدامات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
صوبائی محتسب پنجاب نے کہا کہ عوام کو ان کی دہلیز تک سہولیات کی فراہمی کے لیے موبائل وین کے ذریعے ڈور ٹو ڈور سروس کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے، تاکہ ایسے شہری جو علاقائی دفاتر تک نہیں پہنچ سکتے، وہ بھی محتسب کی خدمات سے استفادہ کر سکیں۔
انہوں نے خواتین کی شکایات کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں خواتین کی جانب سے براہ راست شکایات درج کرانے کی شرح کم تھی، جس کی متعدد وجوہات تھیں۔ خواتین کی رسائی بہتر بنانے کے لیے ہیلپ لائن 1050 کا دائرہ کار وسیع کیا گیا ہے جبکہ اب خواتین براہ راست محتسب کے ادارے سے رابطہ کر سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہر ریجنل آفس میں دو خواتین افسران/عملے کے ارکان کو آپریشنل ذمہ داریاں دی گئی ہیں، جو علاقائی دفاتر آنے والی خواتین شکایت کنندگان کا استقبال اور رہنمائی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے حقوق کے تحفظ اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اور محفوظ رسائی فراہم کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے۔
صوبائی محتسب پنجاب عائشہ حامد نے کہا کہ ادارہ عوامی شکایات کے فوری اور بلا معاوضہ ازالے کے ساتھ ساتھ اپنے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو مؤثر، شفاف، قابل رسائی اور معیاری سروس فراہم کی جائے اور کمزور طبقوں کی آواز کو مؤثر انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچایا جا سکے۔
صوبائی محتسب پنجاب کے دفتر کی 30 سالہ تقریبات کے سلسلے میں کانفرنس

