عمرکوٹ (رپورٹ: بیورو چیف ڈاکٹر ایم لال واگھانی)
عمرکوٹ کے تعلقہ سامارو میں سولر سسٹم کی مبینہ تقسیم کے عمل پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سرسو ادارو سمیت مختلف علاقوں کی خواتین سے تقریباً دو ماہ قبل فارمز اور ضروری دستاویزات کی نقول حاصل کی گئی تھیں، تاہم متاثرہ خواتین کے مطابق انہیں تاحال سولر سسٹم فراہم نہیں کیے گئے۔ معاملے پر سندھ حکومت اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تعلقہ سامارو کے علاقے سرسو ادارو میں سولر سسٹم کی فراہمی کے لیے تقریباً دو ماہ قبل خواتین سے فارم پُر کروائے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق یونین کونسل ارارو، برگری گوٹھ، احمد خان برگری اور دیگر علاقوں میں خواتین سے شناختی کارڈز اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) سے متعلق دستاویزات کی فوٹو کاپیاں بھی حاصل کی گئی تھیں۔
متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ تمام مطلوبہ دستاویزات جمع کروانے کے باوجود انہیں ابھی تک سولر سسٹم فراہم نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے وہ شدید تشویش اور بے یقینی کا شکار ہیں۔
شہریوں اور متاثرہ خواتین نے سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیر جانب دارانہ انکوائری کروائی جائے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور مستحق خواتین کو ان کا جائز حق فراہم کیا جائے۔


