سووا: بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک فجی کی عدالت میں کرپشن اور غفلت کا ایک ایسا عجیب و غریب اور دنگ کر دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے کہ قانون کے رکھوالے بھی دنگ رہ گئے۔ عدالت میں بطور ثبوت محفوظ رکھی گئی کروڑوں روپے کی 40 کلو گرام کوکین جادوئی طریقے سے غائب ہو گئی اور اس کی جگہ سستا آٹا برآمد ہوا!
امریکی خبر رساں ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق، سووا ہائی کورٹ کے محفوظ خانے (والٹ) میں ایک بڑے منشیات کیس کے ثبوت کے طور پر 40 کلو گرام کوکین رکھی گئی تھی۔ تاہم 15 ستمبر کو جب عدالتی عملے نے معائنہ کیا تو کوکین کے 39 پیکٹوں میں سے 7 سرے سے غائب پائے گئے۔
جب پولیس نے جانچ کی تو اصل کوکین کا نام و نشان تک نہ ملا!
مقدمے کی تفتیش اور فرانزک ٹیسٹ کے دوران جب باقی ماندہ پیکٹوں کی جانچ کی گئی تو جو حقیقت سامنے آئی اس نے سب کے ہوش اڑا دیے۔ پیکٹوں میں کوکین کے بجائے صرف آٹا بھرا ہوا پایا گیا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ عدالت کے اندر سے اصل مال پہلے ہی صفایا کر کے اس کی جگہ باورچی خانے کی جنس رکھ دی گئی تھی۔
واضح رہے کہ یہ کوکین سال 2019 میں فجی اور کینیڈین شہری ’جوشوا رحمان‘ کے خلاف منشیات کے ایک بڑے مقدمے میں ضبط کی گئی تھی، جس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ فجی ڈالر یعنی بنتی ہے اور جو پاکستانی روپے میں اربوں اور امریکی ڈالر میں تقریباً ایک کروڑ 33 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ یہ مہنگا ترین منشیات کا ذخیرہ اپیلوں کی کارروائی کے دوران سووا ہائی کورٹ کے اندر حفاظت سے رکھا گیا تھا۔
فجی کے پولیس کمشنر روسیئٹے تودراوو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کوکین مارچ 2021 میں عدالت کے محفوظ خانے میں جمع کرائی گئی تھی، لیکن یہ بات تاحال ایک راز بنی ہوئی ہے کہ اصل کوکین اڑا کر اس کی جگہ آٹا بھرنے کا یہ کارنامہ کب اور کس نے انجام دیا۔
پولیس نے عدالتی محکمے سے وابستہ 6 ایسے اہم افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے پاس اس محفوظ خانے تک براہِ راست رسائی حاصل تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک مشتبہ شخص اس وقت ملک سے بھی فرار ہو چکا ہے۔ اس سنسنی خیز غبن کے بعد حکام نے عدالت میں رکھے گئے دیگر تمام مقدمات کے شواہد اور ضبط شدہ نقدی کی بھی دوبارہ چھان بین شروع کر دی ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کہیں باقی ثبوت بھی "آٹے” کی طرح تبدیل نو نہیں کر دئیے گئے ،
انوکھا غبن: کروڑوں روپے کی کوکین غائب، ثبوت کے نام پر ڈبے میں "آٹا” نکل آیا!

