پیرس: فرانس میں طویل اوقات کار، اساتذہ کی کمی اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف ہائی اسکول کے طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرتے ہوئے خطرناک ’شہری تشدد‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے بعد حکومت نے اسکولوں کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
فرانس کے وزیراعظم سباستین لیکورنو (Sébastien Lecornu) نے ملک بھر میں پھیلنے والے اس شدید بحران سے نمٹنے کے لیے جمعرات کے روز ہنگامی کابینہ کا اجلاس طلب کیا اور وزراء کو اپنے تمام طے شدہ دورے منسوخ کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی یہ پُرتشدد لہر تعلیمی اداروں میں نظام کو برقرار رکھنے اور طلبہ و اساتذہ کی حفاظت کو ناممکن بناتی جا رہی ہے۔
900 مظاہرے اور 3 ہزار کم عمر طلبا کی گرفتاریاں
پولیس کے مطابق ملک بھر کے ہائی اسکولوں کے باہر اس وقت تقریباً 900 مظاہرے، ناکہ بندیاں اور ہنگامہ آرائی کے واقعات جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 160 سے زائد اسکول بند کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ پیرس اور مارسی سمیت تقریباً 30 یونیورسٹی کیمپسز تک رسائی بھی معطل کر دی گئی ہے۔
وزارتِ داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ مظاہروں کے آغاز سے اب تک 15 سے 18 سال کی عمر کے تقریبا 3,000 لیسی (lycée) طلبہ کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں اکیلے جمعرات کے روز 1,949 گرفتاریاں شامل ہیں۔ ان پرتشدد جھڑپوں میں 300 سے زائد پولیس اہلکار، درجنوں فائر فائٹرز، اساتذہ اور طلبہ زخمی ہو چکے ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اسکولوں میں کلاسز کا بے ہنگم بوجھ کم کیا جائے، اساتذہ کی کمی پوری کی جائے اور شدید گرمی کی لہروں کے دوران کلاس رومز میں درجہ حرارت اور عمارتوں کی خستہ حالی کو درست کیا جائے۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب متعدد اسکولوں کے باہر کوڑے دان نذر آتش کیے گئے اور بعض عمارتوں کے اندر بھی آگ لگانے کی کوششیں کی گئیں۔ نانتس (Nantes) کے ایک اسکول میں آگ لگنے سے اتنا نقصان ہوا کہ اسے ایک ماہ کے لیے بند رکھنا پڑے گا۔ مارسی کے ایک اسکول میں مبینہ طور پر ایک استاد پر پیٹرول تک چھڑک دیا گیا، جبکہ اسسٹراسبورگ میں مظاہرین کی جانب سے ٹریکس پر رکاوٹیں کھڑی کرنے پر ٹرام سروس عارضی طور پر معطل کرنا پڑی۔
دوسری جانب حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ بائیں بازو کی شدت پسند جماعت ’لا فرانس انسومیس‘ (LFI) کے رہنما ان مظاہروں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ تاہم ایل ایف آئی کے 2027 کے صدارتی امیدوار جین لوک میلینچن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پرامن جدوجہد کے حامی ہیں اور ان کی سب سے بڑی تشویش نوجوانوں پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی اندھا دھند طاقت کا استعمال ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر فرانسیسی حکومت کے لیے امن و امان بحال کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
فرانس میں طوفانی احتجاج تشدد میں بدل گیا: 900 مظاہرے، 3 ہزار طلبہ گرفتار، تمام اسکول آن لائن،ہنگامی کابینہ اجلاس طلب!

