طبی جریدے دی لینسیٹ آنکولوجی (The Lancet Oncology) میں شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق کے مطابق، ہندوستان میں سن 2024 کے دوران کینسر کے تقریبا 1.9 لاکھ (1,90,000) نئے کیسز مختلف وائرسز اور بیکٹیریا کی انفیکشنز کے باعث سامنے آئے۔اندازوں کے مطابق 2024 میں ہندوستان میں کینسر کے مجموعی طور پر 15.62 لاکھ سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 9.08 لاکھ سے زائد اموات واقع ہوئیں۔ عالمی سطح پر 2024 میں کینسر کے تقریبا 23 لاکھ نئے کیسز (کل تشخیص کا 12 فیصد) انفیکشنز کی وجہ سے ہوئے۔تحقیق کے مطابق ہندوستان میں انفیکشنز سے جڑے کینسر کے اکثر کیسز بنیادی طور پر درج ذیل وائرسز اور بیکٹیریا کے باعث سامنے آئیایچ پی وی (HPV): ہیومن پیپیلوما وائرس 1 لاکھ سے زائد کیسز کا سبب بنا، جو بنیادی طور پر خواتین میں بچے دانی کے منہ (سروائیکل) کے کینسر کی وجہ بنتا ہے۔ایچ پائلوری (H. pylori): معدے کا یہ بیکٹیریا تقریبا 47,000 کینسر کیسز (خصوصا معدے کا کینسر) سے منسلک پایا گیا۔ایپسٹین بار وائرس (EBV): اس کے باعث تقریبا 22,000 کیسز سامنے آئے۔ہیپاٹائٹس بی (HBV): جگر کے اس وائرس سے تقریبا 10,000 کینسر کیسز جڑے ہوئے تھے۔ہیپاٹائٹس سی (HCV): اس سے تقریبا 5,300 کینسر کے کیسز رپورٹ ہوئے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انفیکشنز سے پیدا ہونے والے کینسر کی روک تھام کافی حد تک ممکن ہے۔ایچ پی وی (HPV) اور ہیپاٹائٹس بی کی بروقت ویکسینیشن سے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ بیکٹیریل انفیکشنز (جیسے ایچ پائلوری) کا بروقت علاج اور باقاعدہ طبی معائنہ (Screening) کینسر کو ابتدائی مراحل میں ہی روکنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہندوستان میں 1.9 لاکھ کینسر کے کیسز انفیکشن والے، لینسیٹ کی اسٹڈی میں انکشاف

