دبئی:دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی مسافر پرواز میں اس وقت ایک غیر معمولی اور سنسنی خیز صورتحال پیدا ہو گئی جب دورانِ پرواز کاک پٹ میں موجود پائلٹوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور لڑائی شروع ہوگئی۔
اسرائیلی اخبار ’وائی نیٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، پائلٹوں کی اس آپسی جھڑپ کے دوران غلطی سے یا بوکھلاہٹ میں ایک مخصوص 7500 اسکواک کوڈ ایکٹیویٹ ہو گیا، جو ہائی جیکنگ یا غیرقانونی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس دوران طیارہ صرف دو منٹ سے کچھ زائد وقت میں شمالی مغربی سعودی عرب کے اوپر 17 ہزار 400 فٹ نیچے آیا، یعنی 34 ہزار فٹ سے تقریباً 16 ہزار 600 فٹ پر آگیا۔ اس سگنل کے بعد بین الاقوامی فضائی حدود میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
The spokesperson for Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu said Wednesday that the incident involving a Flydubai aircraft carrying Israeli passengers, which led to the flight changing course, returning, and then landing in Saudi Arabia, was not a hijacking. Israeli media also… pic.twitter.com/kyTeB51ZTG
— Breaking Aviation News & Videos (@aviationbrk) September 30, 2026
یہ طیارہ اپنے مقررہ وقت کے مطابق تل ابیب کے بن گوریان ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والا تھا، تاہم اس ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر پرواز کا رخ موڑ کر اسے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ طیارے میں تقریباً 180 مسافر سوار تھے۔
اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فلائی دبئی کی اس پرواز نے فضائی سفر کے دوران ’غیر قانونی مداخلت‘ یعنی طیارہ اغوا کیے جانے کا الرٹ اور بعد ازاں ایک اور عمومی ہنگامی سگنل بھیجا تھا۔
تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ یہ تمام تر ہنگامہ آرائی اور ایمرجنسی سگنل کا اجرا کاک پٹ کے اندر موجود پائلٹوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔
پرواز میں پیدا ہونے والے اس سیکیورٹی خدشے اور سگنل کے موصول ہوتے ہی اسرائیل میں اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس طلب کر لیا گیا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سینئر سیکیورٹی اور فوجی حکام کے ساتھ ایک ہنگامی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔
اس اجلاس میں اسرائیلی ایئر فورس کے چیف میجر جنرل عمر ٹشلر، آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے چیف میجر جنرل اتزک کوہن اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے چیف میجر جنرل شلومی بائنڈر نے شرکت کی۔ فوجی حکام نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے، تاہم فی الوقت اس سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

