یروشلم/لندن: یورپی ممالک اور اسرائیل کے تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جہاں نیدرلینڈز اور برطانیہ جیسے ممالک کی طرف سے سخت اقدامات کا سامنا ہے، اس کے برعکس عرب ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات اور مراکش کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔
یروشلم پوسش کی رپورٹ کے مطابق، ہالینڈ (نیدرلینڈز) نے 22 ستمبر سے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے تعلق رکھنے والی اشیاء (بشمول مسافروں کے ذاتی سامان میں لائی جانے والی اشیاء جیسے کہ شراب یا کھجوریں) کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ارادتاً 6 سال تک قید اور غیر ارادتاً بھی ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس اقدام پر اسرائیل نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رام اللہ میں تعینات ڈچ حکام کا سفارتی درجہ واپس لے لیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب برطانیہ کے ساتھ بھی تعلقات میں سرد مہری آ چکی ہے۔ لٹن ایئرپورٹ پر تل ابیب سے آنے والے مسافروں کی خصوصی تلاشی کے واقعات سامنے آئے ہیں، اگرچہ ہوم آفس نے اس کی تردید کی ہے۔ لیبر پارٹی کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے فلسطینیوں کی ابتر حالت کو دنیا کے ضمیر پر ایک دھبہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ برطانوی حکومت بستیوں سے درآمدات پر پابندی لگائے گی اور بستیوں کے ساتھ مالی، تعمیراتی اور خدماتی روابط کو ہدف بنائے گی۔
اس کے علاوہ آئرلینڈ کے ساتھ سیاسی دشمنی اب کھیلوں کے میدانوں تک پھیل چکی ہے، جہاں آئرلینڈ کے فٹبال کوچ نے میچ سے قبل اسرائیل کے خلاف انتہائی سخت بیان بازی کی ہے۔
اس کے برعکس مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ یورپی ممالک کی طرف سے پابندیوں کے باوجود مراکش اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مکمل سفارتی سطح (سفارت خانوں کے قیام) پر لانے کی تیاری کر رہا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان براہ پروازوں، سرمایہ کاری اور ٹیکس معاہدوں پر کام جاری ہے۔
مزید برآں، اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زايد کی دعوت پر یو اے ای کا دورہ کیا، جس کی سرکاری سطح پر باضابطہ تصدیق بھی کی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، خطے کے بعض مسلم اکثریتی ممالک ایران، اسلام ازم، سکیورٹی، ٹیکنالوجی اور تجارت جیسے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ترجیح دے رہے ہیں۔
یروشلم پوسٹ کا کہنا ہے روایتی طور پر اسرائیل کے حامی سمجھے جانے والے یورپ اور مشرق وسطیٰ کی اس بدلتی ہوئی صورتحال نے ایک عجیب تضاد پیدا کر دیا ہے؛ جہاں ایک طرف یورپی شہری یا مسافر ایمسٹرڈیم کے ائیرپورٹ پر سامان میں رکھی اسرائیلی بستی کی شراب پر تلاشی کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ابوظہبی اور مراکش میں اسرائیلی رہنما عرب حکمرانوں کے ساتھ خطے کے مستقبل اور مشترکہ خطرات پر مذاکرات کر رہے ہیں۔
یورپ میں اسرائیل کے لیے نفرت اور عرب دنیا میں محبت بڑھنے لگی، یروشلم پوسٹ

