واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی ہنگامی درخواست منظور کرتے ہوئے تارکین وطن کو ان کے آبائی وطن کے بجائے کسی دوسرے (تیسرے) ملک میں ملک بدر کرنے پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :
140 ملین ڈالر کے خفیہ معاہدے، امریکا نے پاکستانیوں سمیت 25 ہزار تارکین وطن کو افریقا ، میکسیکو بھجوادیا
غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، قدامت پسند اکثریت والی سپریم کورٹ نے منگل کے روز زیریں عدالت کے اس فیصلے کو معطل کر دیا جس کے تحت تیسرے ملک کی طرف بے دخلی کے عمل پر پابندی لگائی گئی تھی۔ زیریں عدالت نے اپنے فیصلے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ جن افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہو، انہیں پہلے سے باضابطہ طور پر بتایا جانا لازمی ہے تاکہ وہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر عدالت سے رجوع کر سکیں۔ تاہم، عدالت کے اس 9 رکنی پینل میں شامل 3 لبرل ججز نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست منظور کرنے کی مخالفت کی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ سے باہر نکالنے کا عزم ظاہر کیا تھا، اور 2025 میں دوبارہ منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد انہوں نے اس عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے یہ مؤقف اپناتی ہے کہ چونکہ بعض تارکین وطن اپنے اصل ممالک میں واپس جانے سے انکار کرتے ہیں، اس لیے انہیں دیگر ممالک میں بھجوانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد سمیت تارکین وطن کو تیزی سے تیسرے ممالک میں منتقل کرنا ملک بدری کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے، جبکہ زیریں عدالت کے فیصلے کی وجہ سے انتظامی امور میں شدید مشکلات پیدا ہو رہی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے کئی ایسے ممالک کے ساتھ معاہدے کر رکھے ہیں جو امریکی تارکین وطن کو اپنے پاس رکھنے کے بدلے میں لاکھوں ڈالر حاصل کرتے ہیں۔ دوسری جانب، سپریم کورٹ میں اس پابندی کے خاتمے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا تھا کہ زیریں عدالت کے حکم نے تارکین کی منتقلی کو روکا نہیں تھا بلکہ صرف یہ تقاضا کیا تھا کہ یہ سارا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق شفاف رکھا جائے۔
امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: تارکین وطن کو تیسرے ملک میں ڈی پورٹ کرنے کی اجازت مل گئی

