اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالی حسابات میں سامنے آنے والے 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق سے متعلق تمام تر تفصیلات جلد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ عالمی مالیاتی ادارے کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وزارتِ خزانہ سے وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کے مالیاتی حسابات میں موجود 853 ارب روپے کے نمایاں فرق پر سوالات اٹھائے تھے۔ حکومت نے وضاحت کی ہے کہ صوبوں کی جانب سے ٹریژری پیپرز میں سرمایہ کاری اور اخراجات کے اندراج میں تاخیر اس فرق کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال میں زرعی انکم ٹیکس کی وصولی توقع سے انتہائی کم رہی، اور رواں مالی سال میں بھی پنجاب اور سندھ کی جانب سے طے شدہ اہداف حاصل نہ کیے جانے کا خدشہ ہے
علاوہ ازیں، تاجروں کے لیے متعارف کرائی گئی دوسری فکسڈ ٹیکس اسکیم پر بھی آئی ایم ایف نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ حکومت نے واضح کیا کہ یہ اسکیم تاجروں کو آخری موقع فراہم کرنے کے لیے ہے، جس کے بعد ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کو سول سرونٹس ایکٹ میں کی جانے والی نئی ترمیم (دفعہ 15A) کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ اس ترمیم کے تحت گریڈ 17 سے 22 تک کے تمام سرکاری افسران اپنے اور اپنے اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہوں گے، اور یہ تفصیلات عوام کی معلومات کے لیے ویب سائٹ پر بھی دستیاب کی جائیں گی。

