بحرِ احمر پر بڑا معرکہ: سوڈان نے یو اے ای کے بجائے چین کے ساتھ پیشرفت کا اعلان کر دیا
ابوظہبی کے ہاتھ خالی: سوڈان کی حکمت عملی کے لحاظ سے اہم ترین بندرگاہ اب چین کے تعاون سے تعمیر ہوگی
پسرور (محمد اشفاق / بے نقاب نیوز)
سوڈان نے بالآخر اپنی خانہ جنگی کے خاتمے اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی سمت پہلا بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ وہ حکمت عملی کے لحاظ سے انتہائی اہم بندرگاہ—جس کے لیے امارات نے سوڈان میں پراکسی چھیڑ رکھی تھی—اب یو اے ای کو ملنے کے بجائے چین کے حصے میں آ گئی ہے، اور ابوظہبی بھاری اخراجات کے باوجود خالی ہاتھ رہ گیا ہے۔
سوڈان کے سرکاری ٹی وی چینل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق:
"یہ سوڈان کی جانب سے محمد بن زاید کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، جو گزشتہ 4 سال سے مشرقی سوڈان میں نئے بندرگاہی منصوبے ‘پورٹ ابو امامہ’ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن آج سوڈان نے چین کے تعاون سے اس نئے بندرگاہی منصوبے پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آج کا پیغام واضح ہے کہ کنٹینر تجارت کا رخ متحدہ عرب امارات سے منتقل کر کے سوڈان اور دیگر افریقی ممالک کی جانب موڑا جائے گا۔”
‘ابو امامہ’ افریقہ کا گیٹ وے اور بحرِ احمر کی تجارت میں کلیدی حیثیت رکھنے والی بندرگاہ ہے، کیونکہ افریقہ میں بحرِ احمر کے ساحل پر مشرقِ وسطیٰ کے بالمقابل صرف تین اہم ممالک واقع ہیں: صومالیہ، سوڈان اور مصر۔
مصر کا مشرقِ وسطیٰ سے تعلق اور سیاسی حیثیت مختلف نوعیت کی ہے، جبکہ صومالیہ کے اندرونی حالات کے باعث وہاں فی الوقت ایسی بڑی بین الاقوامی سرمایہ کاری ممکن نہیں ہے۔ ایسے میں صرف سوڈان ہی بچتا تھا جس کی بندرگاہ پر قبضہ کر کے سوڈان سمیت پورے افریقہ کی تجارتی راہداری کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا—اور محمد بن زاید کی بھی یہی خواہش تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب پہلے دن سے اس منصوبے پر امارات کا یکطرفہ تسلط نہیں چاہتا تھا۔ جب سعودی عرب نے دیکھا کہ یو اے ای خطے کی تجارت پر حاوی ہو جائے گا، تو اس نے اس بندرگاہ کا کنٹرول اور ڈویلپمنٹ چین کے حوالے کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے محمد بن زاید کو بڑی سفارتی و معاشی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔


