واشنگٹن:وائٹ ہاؤس اور میڈیا کے درمیان جاری جنگ میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کی شب واضح کر دیا کہ سی این این (CNN) کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہفتے کے روز ہونے والے دورے کے لیے ‘ایئر فورس ون’ پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:
”اتفاق میں برکت“: وائٹ ہاؤس نے سی این این اور دیگر معطل شدہ میڈیا آؤٹ لیٹس کی رسائی بحال کر دی
صدر ٹرمپ کے ٹینیسی کے دورے کے دوران سی این این کی جگہ ایک قدامت پسند نیوز نیٹ ورک "ریل امریکہ وائس نیوز” کو شامل کر لیا گیا ہے، جو کہ پہلی آئینی ترمیم سے جڑے اس تنازع میں انتظامیہ کی جانب سے لگائی جانے والی تازہ ترین میڈیا پابندی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند گھنٹے قبل ہی ایک وفاقی جج کے حکم پر سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں دوبارہ داخلے کی اجازت ملی تھی۔ جج ٹیموتی جے کیلی نے اپنے فیصلے میں انتظامیہ کے پابندی کے اقدام کو عارضی طور پر کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد جمعہ کے روز سی این این کی ٹیم نے صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ نیشنل آرکائیوز کی لائیو کوریج بھی کی تھی۔
تاہم، وائٹ ہاؤس کے تازہ فیصلے کے تحت ایئر فورس ون کے روٹیٹنگ ویڈیو پول میں سی این این کا مختص کردہ مقام ایک ایسی کنزرویٹو میڈیا تنظیم کو دے دیا گیا ہے جو باضابطہ پول کا حصہ بھی نہیں ہے۔ قانونی ماہرین اور میڈیا ہاؤسز اس عدالتی حکم کی الگ الگ تشریح کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کا میڈیا اداروں کے ساتھ یہ ٹکراؤ امریکہ میں آزادیِ صحافت کے حوالے سے ایک انتہائی گرما گرم بحث کا موضوع بن چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے عدالتی حکم کے باوجود سی این این کو ایئر فورس ون کے سفر سے باہر کر دیا

