اسلام آباد / لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف متوقع احتجاجی لانگ مارچ اور دنگل کے پیش نظر وفاقی حکومت نے آہنی فیصلے کرتے ہوئے دارالحکومت اور پنجاب کے حساس اضلاع میں پاکستان رینجرز کو مکمل قانونی اختیارات کے ساتھ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومتِ پنجاب کی خصوصی درخواست پر یہ اقدام اٹھایا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
انتظامیہ کی جانب سے دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں اور ریڈ زون کو کنٹینرز لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق اس ناکہ بندی اور سخت سکیورٹی اقدامات کا بنیادی مقصد "مسلح یا انتشاری گروہوں کے اسلام آباد میں داخلے کو ہر قیمت پر روکنا” ہے۔ وزارت نے سکیورٹی فورسز اور پولیس کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ پرتشدد یا مسلح جتھوں کے حملوں کی صورت میں شہریوں کے جان و مال اور سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے بھرپور اور جوابی اقدامات کیے جائیں۔
موبایل و انٹرنیٹ بند کرنے کی سفارش اور قانونی اختیارات:
ممکنہ احتجاجی لہر کو روکنے کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب نے راولپنڈی ریجن کے مختلف اہم مقامات—جن میں باہتر سے ایم ون، گنگو، اٹاہا، ٹیکسلا، واہ، ٹھلیاں، چکری اور ضلع اٹک شامل ہیں—پر 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز (2G, 3G, 4G) کو ڈاؤن گریڈ یا مکمل جام کرنے کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔
قانون کے مطابق رینجرز کی یہ تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) 1997 کے تحت کی گئی ہے۔ اے ٹی اے کی دفعہ 5 کے تحت رینجرز کو پرتشدد سرگرمیوں اور مسلح حملوں کو روکنے کے لیے مناسب طاقت کے استعمال، بغیر وارنٹ تلاشی و گرفتاری اور شدید خطرے یا پرتشدد کارروائیوں کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے گولی چلانے (شوٹ آن سائٹ) تک کا قانونی اختیار حاصل ہو گا، تاکہ دارالحکومت میں امن و امان کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
اسلام آباد اور پنجاب میں ریڈ الرٹ: 27 ستمبر کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو کون سے وسیع اختیارات دیدئیے گئے؟

