واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اور کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کو نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات (Midterm Elections) سے قبل شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے۔
ایران کے ساتھ جاری طویل جنگ کے نتیجے میں آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی، گیس اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت نے ڈیموکریٹک پارٹی کو انتخابی میدان میں نمایاں برتری دلادی ہے۔ صورتحال اتنی تشویشناک ہو چکی ہے کہ خود ریپبلکن پارٹی کے کئی رہنما بھی اس متوقع سیاسی تباہی (Bloodbath) کے پیش نظر کھلے عام پارٹی قیادت پر تنقید کرنے لگے ہیں۔
حال ہی میں ریپبلکن پارٹی کے مڈٹرم کنونشن کے دوران صدر ٹرمپ نے ووٹرز کو 5 ہزار ڈالر کے چیک دینے کا وعدہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ انتباہ بھی کیا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس جیتے تو امریکہ ایک "کیمونسٹ ملک” بن جائے گا۔ تاہم، ووٹرز پر اس حربے کا کوئی اثر نہیں ہوا اور مختلف ریاستوں سے موصول ہونے والے حالیہ جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس کو کانگریس کی دوڑ میں واضح برتری حاصل ہے۔
واشنگٹن میں ریپبلکن اراکین کی گھبراہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں ایوانِ نمائندگان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک وار پاورز ریزولوشن پیش کی گئی، جس کی حمایت میں چند ایسے ریپبلکن اراکین نے بھی ووٹ دے دیا جنہوں نے ماضی میں اس کی مخالفت کی تھی۔ ریپبلکن رہنما نینسی میس (Nancy Mace) نے کھلے الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ یہ مڈٹرم انتخابات ان کی پارٹی کے لیے انتہائی بھیانک ثابت ہوں گے اور پارٹی کا کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ کینساس اور مشی گن جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی امیدواروں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
اگرچہ ریپبلکنز اور ان کے حامیوں نے انتخابی مہم کے لیے دل کھول کر فنڈز خرچ کیے ہیں اور ڈیموکریٹس کے مقابلے میں کثیر سرمائے (سینٹ کے انتخابات میں تقریباً 384 ملین ڈالر کے مقابلے 112 ملین ڈالر) کے ساتھ میدان میں اترے ہیں، لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ پیسے ہر چیز کا فیصلہ نہیں کرتے۔ سیاسی تجزیہ کار جان وولی کے مطابق، مہنگائی اور بیرونی محاذ پر جاری جنگ جیسے عوامل اب تبدیل ہونے والے نہیں ہیں، اور الیکشن کا سارا دارمدار اس پر ہے کہ صدر ٹرمپ کتنے سوئنگ (Swing) اور آزاد ووٹرز کو اپنی طرف کھینچ پاتے ہیں۔
تازہ ترین پولز کے مطابق 57 فیصد آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جبکہ ریپبلکنز کے حق میں صرف 34 فیصد ووٹرز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر "بلو ویو” (Blue Wave) کا چرچا شروع ہو گیا ہے، جو نومبر میں ریپبلکن پارٹی کی بنیادیں ہلا کر رکھ سکتی ہے۔

