سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو):
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی مشاورت اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد برآمدات سے متعلق درپیش مسائل، ٹیکس اصلاحات اور مقامی کاروباری برادری کے لیے سہولیات کی فراہمی پر بات چیت کرنا تھا۔اجلاس کی صدارت چیمبر کے صدر سید احتشام مظہر نے کی جبکہ ان کے ہمراہ سینئر نائب صدر محمد مراد ارشد اور نائب صدر سلمان شیخ بھی موجود تھے۔ دیگر اہم شرکاء میں چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو و ریجنل ٹیکس آفسیر گوجرانولہ ریجن محمد خالد جمیل چیئرمین ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن کمیٹی، سیالکوٹ ریجن و چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو و ریجنل انکم ٹیکس آفیسر سیالکوٹ ریجن حسن ذوالفقار اور ٹریڈرز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین فیض احمد چدھڑ سمیت خاور سپال،ماجد رضا بھٹہ، خرم اسلم بٹ، عبدالغفور ملک، اجمل خان، سیکرٹری طارق ملک،رانا عمران، آفتاب ناگرہ، اعجاز غوری، خالد شیخ، حسن علی بھٹی، خواجہ خاور انور، قیصر بیگ، ڈی جی خالد، چودھری جہانگیر رشید، اسد نصیرملک، خاجہ مسعود اختر، عبدالشکور مرزا، اعجاز اے کھوکھر، صدر ویمن چیمبر ڈاکٹر مریم نعمان، ملک اشرف اعوان، نصیر اے ملک، نعیم اختر مغل، فیضان کپور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین شامل تھے۔حکومتی اقدامات کی تعریف اور اہم مطالبات اجلاس کے دوران صدر ایس سی سی آئی سید احتشام مظہر نے برآمدی شعبے کے مقدمے کو تمام حکومتی فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھانے پر بلال اظہر کیانی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن سکیم (ای ایف ایس) کے تحت وقت کی حد میں توسیع اور ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) کی سطح پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن کمیٹیوں کے قیام کے اقدامات کی تعریف کی۔ایس سی سی آئی کی قیادت اور تاجر برادری نے ٹیکس اور برآمدات میں بہتری کے لیے مندرجہ ذیل اہم تجاویز پیش کیں:ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن کمیٹی (ای ایف سی) کے لیے واضح اور عملی طریقہ کار اپریشنل وضع کئے جائیں۔ٹیکس ادا کرنے والے اور قانون کی پاسداری کرنے والے برآمد کنندگان کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جائے۔سابقہ اور زیر التواء آڈٹ کیسز کو شفاف طریقے سے حل کرنے کا میکانزم تیار کیا جائے۔رول 44 اور سیکشن 161 کے تحت بھیجے جانے والے غیر ضروری نوٹسز اور تعمیل کے بوجھ سے ریلیف فراہم کیا جائے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے سیالکوٹ کی کاروباری برادری کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد تجارت کو آسان بنانا اور ٹیکس سے جڑے مسائل کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریجنل ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن کمیٹیاں تاجروں کی شکایات کے ازالے، تنازعات کے حل اور ٹیکس حکام کی جانب سے بلاوجہ ہراسانی کو روکنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔بلال اظہر کیانی نے روزگار کی فراہمی، قومی آمدنی اور معاشی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آئندہ کی معاشی اور ٹیکس پالیسیوں میں تاجر برادری کو مکمل طور پر شامل رکھے گی۔اجلاس کے اختتام پر چیمبر کی قیادت نے ٹیکس تعمیل، برآمدات میں اضافے اور کاروباری دوستانہ ماحول کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔


