صنعا / واشنگٹن:یمن میں برسرِ پیکار حوثی تحریک کے سیاسی بیورو کے سینئر رہنما محمد البخیتی نے دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف دوبارہ شروع ہونے والی خانہ جنگی میں ریاض کا ساتھ دینے سے گریز کریں، ورنہ انہیں سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کو دیے گئے ایک خصوصی زوم انٹرویو میں البخیتی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کو مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
محمد البخیتی کے مطابق، رواں ماہ کے اوائل میں یمن کے مغربی ساحل اور باب المندب آبنائے تک حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے بعد واشنگٹن نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے تصدیق کی ہے کہ ہم آبنائے میں امریکہ یا کسی اور ملک کو نشانہ نہیں بنا رہے، ہماری لڑائی کا واحد ہدف "سعودی دشمن” ہے۔ البخیتی نے تصدیق کی کہ عمان کے دیرینہ ثالثی کردار کے ذریعے امریکا اور حوثیوں کے درمیان بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں، جس کا مقصد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
حوثی رہنما نے دعویٰ کیا کہ یمن اب نہ صرف اندرونی بلکہ ایک بین الاقوامی سطح کی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اگر کسی بھی ملک نے سعودی عرب کی حمایت میں یمن کے خلاف جارحیت کی تو حوثی کئی محاذوں پر بیک وقت لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ریاض یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں پر عائد دہائیوں پرانی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اور بحیرہ احمر کی بندرگاہوں تک بحری جہازوں کی رسائی بحال نہیں کی جاتی۔
البخیتی نے موجودہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری سعودی اتحاد پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ صنعا ایئرپورٹ پر ہونے والے فضائی حملے نے، جس نے ایک ایرانی پرواز کو روکا تھا، اس بحران کو جنم دیا۔ اس کے جواب میں حوثیوں نے دارالحکومت ریاض اور سعودی تیل کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے مغربی ساحل اور اہم جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد خطے میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو چکا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل اور جہاز رانی کے راستوں کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔
امریکا سے خفیہ ڈیل ہو گئی، سعودی عرب کا ساتھ دینے والوں کو عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا، حوثی رہنما

