واشنگٹن / نیویارک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بار پھر انتہائی سخت اور تباہ کن وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ صرف وقت کی بات ہے جب وہ "پورے ملک کو اڑانے” کا فیصلہ کریں۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک سنسنی خیز انٹرویو میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس وقت "فیصلہ کرنے کے موڈ” میں ہیں اور بہت جلد مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر اقدامات کیے جانے والے ہیں۔
فاکس نیوز کے چیف فارن کرسپانڈنٹ ٹرے ینگسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ وہ اس وقت تین مختلف راستوں پر غور کر رہے ہیں— جن میں "ایران کا نام و نشان مٹا دینا، اسے معاشی طور پر تباہ حال ہونے دینا، یا پھر کوئی معاہدہ طے کرنا” شامل ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا: "میرا سوال یہ ہے کہ اگر اور کب میں پورے ملک کو اڑا دوں؟ انہیں چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اچھے طریقے سے پیش آئیں!”
ایک طرف جہاں ٹرمپ کی جانب سے تباہ کن دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، وہیں دوسری طرف سفارتی دروازے بھی کھلے رکھے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے خلیجی ممالک کے چھ رہنماؤں سے ٹرمپ کی ملاقات متوقع ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس سربراہی اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے بھی "کھلے دل” سے تیار ہیں۔
تاہم، زمینی حقائق انتہائی کشیدہ ہیں۔ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں تیزی کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارت خانوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے ہنگامی الرٹس جاری کر دیے ہیں اور کسی بھی غیر متوقع تصادم کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ حوثیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ حوثی امریکہ کے خلاف براہِ راست جنگ نہ کرنے پر رضا مند ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی یہ دوہری پالیسی خطے کو ایک بہت بڑی جنگ کے دھانے پر لے آئی ہے۔

