لندن / واشنگٹن:برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ (FT) کی ایک انتہائی تشویشناک اور تہلکہ خیز رپورٹ نے عالمی منڈیوں میں کہرام مچا دیا ہے۔ اخبار کے مطابق، ایران کی جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والا انرجی شاک (Energy Shock) اب تیزی سے پوری عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے، اور دنیا بھر کی حکومتوں اور مرکزی بینکوں کو ہنگامی مداخلت کرنا پڑ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ بحران اب صرف خام تیل (Crude Oil) کا نہیں رہا بلکہ ریفائنڈ ایندھن (Refined Fuels) کی شدید قلت کا بن چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اگست کے مہینے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی عالمی پیداوار میں روزانہ 4 ملین (40 لاکھ) بیرل سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ڈیزل کی قیمتیں تاریخ میں پہلی بار 200 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر چکی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق دنیا کے 94 ممالک اپنے شہریوں کو اس مہنگائی کے طوفان سے بچانے کے لیے ٹیکسوں میں کٹوتیاں، قیمتوں کی حد بندی (Price Caps) یا ایندھن پر بھاری سبسڈی دینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد کئی ممالک کے مرکزی بینکوں کو مجبوراَ شرحِ سود (Interest Rates) بڑھانا پڑی ہیں۔
ذخیرہ شدہ تیل کی درست مقدار کے بارے میں پائے جانے والے ابہام کی وجہ سے تجارتی ماہرین اور پالیسی سازوں کے لیے یہ اندازہ لگانا ناممکن ہو گیا ہے کہ عالمی منڈیاں اس سپلائی تعطل کو مزید کتنے دن برداشت کر پائیں گی۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگی حالات میں فوری تعطل یا سفارتی حل نہ نکالا گیا، تو یہ انرجی شاک دنیا بھر میں معاشی بدحالی اور کساد بازاری (Global Recession) کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے۔
ایران جنگ عالمی معیشت کیلئے ایٹمی دھماکہ: ” دنیا بھر میں مہنگائی کا طوفان،، فنانشل ٹائمز

