-
سسرالیوں کے مظالم سے تنگ خاتون کا پریس کلب میں دہائی، اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
-
مورو (رپورٹ: محمد اسلم مغل)
ضلع نوشہروفیروز کی تحصیل مورو کی رہائشی مسمات سیما منصور سیال نے سسرالیوں کے مظالم، تشدد اور ہراسانی کے خلاف پاکستان پریس کلب نوشہروفیروز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ کی اپیل کی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران مسمات سیما منصور سیال نے بتایا کہ ان کے شوہر منصور سیال پاک فوج کے جوان تھے جن کا انتقال تقریباً 9 سال قبل ہوا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد گزشتہ دو سالوں سے ان کے سسر پیرل سیال، دیور گونر سیال، مقبول سیال اور رشتہ دار حسین سیال مبینہ طور پر ان کے مرحوم شوہر کی ملنے والی پنشن میں زبردستی حصہ مانگ رہے ہیں اور ان کے گھر پر قبضہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
خاتون نے آبدیدہ ہو کر بتایا کہ سسرالی رشتہ دار انہیں مسلسل ہراساں اور مار پیٹ کر کے گھر سے نکال دیتے ہیں، جبکہ ان کے بچوں کو بھی مبینہ طور پر گھر میں قید کر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے تین بچے (15 سالہ مسکان، 13 سالہ بچی اور کمسن بیٹا) شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
سیما سیال نے چیف جسٹس، آرمی چیف اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے سسرالیوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں و ان کے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
مورو: بیوہ کا سسرالیوں پر ہراساں کرنے، تشدد اور گھر پر قبضے کا الزام، تحفظ کی اپیل


