واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر اندرونِ ملک شدید سیاسی بحران اور عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ ’فاکس نیوز‘ کے تازہ ترین رائے عامہ کے جائزے (پول) کے مطابق دس میں سے چھ ووٹرز (60 فیصد) اب کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ ایک صریح غلطی تھی۔
رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 71 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا ماننا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے پاس اس جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود ہی نہیں ہے۔ اس تشویشناک صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 43 فیصد ریپبلکنز بھی یہ ماننے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ وائٹ ہاؤس کے پاس اس دلدل سے نکلنے کا کوئی پلان نہیں ہے، جبکہ آزاد ووٹرز میں یہ شرح بڑھ کر 83 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس جنگ نے امریکا کو کم محفوظ بنا دیا ہے، ان کی تعداد اپریل میں 39 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 47 فیصد ہو چکی ہے۔
اس بڑھتے ہوئے عوامی عدم اعتماد کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی منظوری کی شرح گر کر 37 فیصد پر آ گئی ہے، جو ان کی دوسری مدتِ صدارت میں اب تک کی سب سے کم ترین سطح ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اپنے ہی بیس ووٹرز کا جنگی حکمت عملی پر شک کرنا پارٹی اسٹریٹجسٹس کے لیے خوفناک ہونا چاہیے، کیونکہ اپنے ہی حامیوں کا اعتماد متزلزل ہونا وسط مدتی انتخابات (Midterms) میں ووٹرز کے ٹرن آؤٹ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
آنے والے انتخابات میں صرف سات ہفتے باقی ہیں، اور وائٹ ہاؤس کو اس وقت دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے: ایک طرف پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر فی گیلن سے نیچے لانا اور دوسری طرف ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا کوئی باضابطہ معاہدہ طے کرنا، جن میں سے فی الحال دونوں چیزیں حکومت کی دسترس سے باہر دکھائی دے رہی ہیں۔
عوامی غصہ: 60 فیصد ووٹرز نے جنگ کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا، ٹرمپ خارجہ پالیسی کی ریٹنگ ڈاؤن

