امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے داخلے کا ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے فلسطینی حکام کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ واشنگٹن نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) پر امن عمل سے متعلق وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیل-فلسطین تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے اور "دہشت گردی کی تعریف” کرنے میں ملوث ہیں۔
امریکا نے گذشتہ سال بھی سالانہ جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل تقریباً 80 فلسطینی حکام کے ویزے منسوخ یا مسترد کر دیے تھے۔ اس موقع پر محمود عباس کے نمائندے نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے منافی قرار دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت امریکا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رکن ممالک کے سفارت کاروں اور نمائندوں کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دے۔ تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
گذشتہ سال محمود عباس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تھا۔ رواں سال بھی اقوامِ متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی جمعرات کو اس بات پر ووٹنگ کرے گی کہ آیا انھیں ویڈیو خطاب کی اجازت دی جائے یا نہیں۔
امریکا نے دوسرے سال بھی فلسطینی صدر محمود عباس کو جنرل اسمبلی اجلاس کیلئے ویزا کیوں نہیں دیا؟

