فی الحال، پولیس اور انتظامیہ پورے علاقے پر ڈرون اور سوشل میڈیا نگرانی کے ذریعے گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
میرٹھ: کیسر گنج منڈی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری ایشور چند کنسل نے الزام عائد کیا ہے کہ مسجد کی تعمیر کی شکایت کرنے اور بلا اجازت تعمیر کو روکنے پر اس کے ساتھ مار پیٹ اور بدتمیزی کی گئی، نیز جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ واضح رہے کہ مسجد پر تنازع کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ کاروباری کی شکایت پر پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
تنازع کی اطلاع پر پہنچی پولیس نے صورت حال کو قابو میں کیا۔ وشو ہندو پریشد کے درجنوں کارکنوں نے موقعے پر پہنچ کر ہنگامہ کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
کاروباری ایشور چند کنسل کا الزام ہے کہ اتوار کی صبح جب وہ راستے سے گزر رہے تھے، تبھی کیسر گنج مسجد کے پاس مولانا قمر، ان کے بیٹے ساد اور متولی بھورا نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور گریبان پکڑ کر مار پیٹ شروع کر دی۔
الزام ہے کہ اس دوران بھیڑ اکٹھی کر کے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ ایشور چند کنسل کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پہلے بھی مسجد کے احاطے میں بغیر اجازت ہونے والی تعمیرات اور کھلے میں ٹوائلٹ کی تعمیر کی شکایت انتظامیہ سے کی تھی۔
ان کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے روک لگائے جانے کے باوجود مسجد میں دوبارہ کام شروع کر دیا گیا تھا، جس کی مخالفت کرنے پر انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس ٹیم فوری طور پر موقعے پر پہنچی اور پورے علاقے کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔
‘جوتے پہن کر مسجد میں داخل ہونے کی کوشش، روکنے پر امام کے ساتھ مارپیٹ’
دوسری طرف، اے آئی ایم آئی ایم رہنما عمران نے کہا کہ تین دن پہلے کیسر گنج مسجد پر لنٹر ڈالنے کا کام چل رہا تھا، جسے انتظامیہ کے روکنے پر مسجد کمیٹی نے مان لیا تھا۔
اتوار کی صبح تقریباً 11 بجے سچن سروہی اور ایک دوسرا شخص ہجوم کے ساتھ جوتے پہن کر مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ جب امام صاحب نے انہیں روکا، تو ان کے ساتھ بدتمیزی، مار پیٹ کی گئی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔
پولیس امام صاحب کو تھانے لے آئی ہے۔ انہوں نے سچن سروہی پر شہر کا ماحول خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف تحریری شکایت دے کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انتخابات قریب آتے ہی ماحول بگاڑنے کی کوشش: کاروباری لیڈر
تاجر رہنما جیتو ناگپال نے الزام لگایا کہ انتخابات قریب آتے ہی شہر کی فضا خراب کرنے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہندو مسلم کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

