لاہور:پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے زراعت، ہنر مندی کی ترقی (اسکل ڈویلپمنٹ) اور برآمدات کے شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ اتفاق رائے سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب اور آسٹریلین ہائی کمشنر ٹموتھی کین کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات میں طے پایا۔
پنجاب حکومت کے "پیوٹ اکنامک ٹرانسفارمیشن پروگرام” کے تحت آسٹریلیا کے تعاون سے اسکل ڈویلپمنٹ کا ایک بڑا پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس میں 1000 طلبہ کے لیے بڑھئی اور ٹائل کے کام سمیت پانچ ایسی ہنر مندانہ اسکلز کا انتخاب کیا گیا ہے جن کی عالمی مارکیٹ میں بھی مانگ ہے۔ اس مقصد کے لیے آسٹریلوی ماسٹر ٹرینرز پاکستان آ کر تربیت فراہم کریں گے، جبکہ 2027 کے لیے آسٹریلیا نے سرکاری افسران، یونیورسٹیوں اور بزنس سیکٹر کے نمائندوں کے لیے 40 شارٹ کورس اسکالرشپس کا بھی اعلان کیا ہے۔
ملاقات میں پاکستانی آم کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے آسٹریلیا میں "مینگو میلہ” منعقد کروانے کی تجویز بھی دی گئی اور ویزا کے عمل کو آسان بنانے کی درخواست کی گئی۔ دوسری جانب آسٹریلین ہائی کمشنر نے پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی اور خواتین کی پیشہ ورانہ تربیت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس باہمی تعاون سے پنجاب کی برآمدات بڑھانے اور نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے قابل بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔

