کولکاتا: مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع میں کیننگ (پشچم) سے ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی پریش رام داس کے خلاف ایک خاتون کی جانب سے عصمت دری کی شکایت کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ 2023 کے پنچایتی انتخابات سے قبل اس کے شوہر کو انتخابی ٹکٹ دلانے کے نام پر 4 لاکھ روپے لینے کے بعد ایم ایل اے نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور عصمت دری کی۔
پولیس کے مطابق خاتون نے بدھ کے روز کیننگ کے سب ڈویژنل پولیس افسر (ایس ڈی پی او) سے تحریری شکایت کی، جس کے بعد معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ پولیس شکایت کنندہ کا بیان، واقعے سے متعلق افراد کے بیانات اور دستیاب دیگر شواہد کی جانچ کررہی ہے۔ خاتون نے اپنی شکایت میں دعویٰ کیا کہ 2023 کے پنچایتی انتخابات کے دوران پریش رام داس نے اس کے شوہر کو انتخاب لڑنے کے لیے پارٹی کا ٹکٹ دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے عوض مبینہ طور پر 4 لاکھ روپے طلب کیے گئے۔
خاتون کے مطابق وہ رقم ادا کرنے کے لیے ایم ایل اے کی جانب سے قائم کیے گئے ایک اولڈ ایج ہوم پہنچی تھی۔ الزام ہے کہ وہاں رقم وصول کرنے کے بعد ایم ایل اے نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا سلوک کیا۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ جب اس نے اس رویے کی مخالفت کی تو اسے مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا، ایک کمرے میں بند کردیا گیا اور اس کے بعد اس کے ساتھ عصمت دری کی گئی۔ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ مبینہ واقعے کے بعد سے وہ اور اس کا خاندان خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہا تھا۔ خاتون کے مطابق اس نے واقعے کے فوراً بعد کیننگ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کی کوشش بھی کی تھی، تاہم اس وقت مبینہ طور پر ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ خاتون کے خاندان نے الزام عائد کیا کہ مقامی سیاسی اثر و رسوخ کے باعث وہ قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھا سکے۔ خاندان کا مزید دعویٰ ہے کہ ایم ایل اے اور ان کے حامیوں نے ان کے گھر پر مبینہ طور پر حملہ کیا اور بم بھی پھینکے، جس کے بعد انہیں تقریباً تین سال تک اپنا گھر چھوڑ کر رہنا پڑا۔

