واشنگٹن:نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات سے محض دو ماہ قبل فنانشل ٹائمز (ایف ٹی) کے ایک نئے اور جامع پول نے وائٹ ہاؤس کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، جس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کی شرح گر کر تاریخ کی کم ترین سطح یعنی صرف 33 فیصد پر آ گئی ہے۔
فوکل ڈیٹا کے تحت کیے جانے والے اس ملک گیر سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جاری تنازعات نے عام امریکیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
سروے کے مطابق ٹرمپ کا روایتی ووٹ بینک(MAGA) بھی اب کھوکھلا ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ریپبلکن ووٹرز میں ان کی مقبولیت کم ہو کر 7 فیصد کی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ریپبلکنز میں سے بھی صرف 53 فیصد افراد صدر کی اقتصادی اور روزگار سے متعلق پالیسیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
معاشی بحران اور عوام کی بڑھتی ہوئی مشکلات:
رپورٹ کے مطابق تقریباً دو تہائی (66 فیصد) ووٹرز کا ماننا ہے کہ امریکی معیشت غلط سمت میں جا رہی ہے، جبکہ 57 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ان کی ذاتی مالی حالت مزید ابتر ہو چکی ہے (جو کہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے)۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری طویل جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن، روزمرہ استعمال کی اشیاء اور قرضوں کی لاگت میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین درآمدات پر عائد کیے جانے والے 50 فیصد ٹیرف کے فیصلے کو بھی شدید عوامی مخالفت کا سامنا ہے، اور 56 فیصد ووٹرز (جن میں 60 فیصد غیر جانبدار اور ایک تہائی ریپبلکن شامل ہیں) نے اس تجارتی پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔
آئندہ نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کو صدر کی قیادت پر ایک ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ خود ریپبلکن انتخابی مہم کے مرکز بنے ہوئے ہیں، لیکن فنانشل ٹائمز کے اس پول نے پارٹی رہنماؤں کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ 46 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی موجودگی ریپبلکن امیدواروں کے لیے کامیابی کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف تاریخ کی نچلی ترین سطح پر، فنانشل ٹائمزپول

