تحریر : ذوالفقار احمد چیمہ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
چیف منسٹر پنجاب نے کہا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم میں سینکڑوں گرفتاریاں ہوئی ہیں۔۔
محترمہ۔اگر آپ کرپشن ختم کرنا چاہتیں تو اسکا آغاز اپنی کابینہ سے کرتیں۔اور مال بنانے والے وزیروں کو ہتھکڑیاں لگواتیں۔۔ مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔
اگر آپ جاننا چاہیں تو ایجنسیوں کے نمائندوں یا باخبر صحافیوں کو بلا کر پوچھ لیں۔کہ کس کی کیا شہرت ہے۔
اسکے بعد ترقیاتی فنڈز میں سے کمیشن کھانے والے ایم پی ایز کو تھانوں میں بند کراتیں۔۔مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی
اسکے بعد جو جو سیکرٹری۔کمشنر ، ڈی آئی جی ،ڈی پی او اور ڈی سی حرام کے پیسے اکٹھے کر رہے ہیں انہیں نشان عبرت
بنایا جاتا۔۔ مگر کسی کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔آپکے شہر لاہور میں بہت سی لیڈی ایس پیز بھی پیسے لیتی ہیں مگر
کیا آپ نے کرپشن میں ملوث ہونے پر کسی ڈی پی او یا آر پی او یا کسی کمشنر اور ڈی سی کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا ہے؟
اگر آپ کرپشن کے خاتمے کیلئے مخلص ہوتیں تو پرتگال اور کینیڈا میں جائدادیں بنانے والے افسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرتیں۔انکی انکوائری انتہائی دیانتدار اور جرات مند افسروں سے کراتیں اور اور انہیں کرپشن کرنے پر جیل میں بند کرتیں
مگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
دکھاوے کے لیے چھوٹے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
اگر بڑے ڈاکوؤں کو کھلی چھٹی ہے تو پھر سب کہانیاں ہیں جس طرح عمران خان نے کرپشن کے خلاف نعرے لگا لگا کر لوگوں کی توقعات بہت بڑھا دی تھیں۔اور ہمارا خیال تھا کہ وہ واقعی کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔۔۔مگر جب وقت آیا اور وہ وزیراعظم بن گئے تو انہوں نے بزدار، گوگی اور پرویز الٰہی وغیرہ کی کرپشن کے خلاف نہ صرف کوئی کاروائی نہ کی بلکہ انہیں مکمّل تحفظ دیا۔
اب تو اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ
نون لیگ ہو یا تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی۔۔۔انہیں کرپشن سے کوئی نفرت نہیں
کرپشن اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔۔ اسکا خاتمہ صرف وہ ٹیم ہی کر سکتی ہے جو خود کلین ہو، اور سادہ زندگی بسر کرنے اور سادہ لباس پہننے والے قابل اور جرات مند افراد پر مشتمل ہو
میں تو کسی عہدے کا خواہشمند نہیں۔۔۔کئی بار آفرز بھی ہوئیں مگر قبول کرنے سے معذرت کی۔۔
۔مگر میرے پاس اختیار ہوتا تو پورے صوبے کو ایک مہینے میں کرپشن سے بالکل پاک کر دیتا۔۔
اسکے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنا دامن پاک اور صاف ہو۔ پھر
اجلے کردار کے قابل اور بہادر افراد کی ٹیم تیار کی جائے اور پھر اس مشن کو آہنی عزم کے ساتھ مکمّل کیا جانے
یعنی اسکے لئے تین چیزیں درکار ہیں
Character, Competence and strong will.
اگر یہ نہیں تو پھر سب کہانیاں ہیں یا ڈرامے ہیں۔



