واشنگٹن ڈی سی :امریکا نے ایرانی پاسداران انقلاب کے نمایاں سائبر عہدیدار امیر یاریاب سے متعلق معلومات پر 10 ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کی ہے جن پر امریکی وزارت خارجہ نے پاسداران انقلاب کی سائبر کمانڈ میں سائبر آپریشنز کی قیادت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
Amir Yaryab directs malicious cyber groups targeting the United States.
Got information on him? Direct your tip to us!https://t.co/aF8mbI4c6i pic.twitter.com/CW4hac5b1F
— Rewards for Justice (@RFJ_USA) September 3, 2026
"ریوارڈز فار جسٹس” پروگرام نے کہا ہے کہ یاریاب ان گروہوں کی نگرانی کرتے ہیں جن پر امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں دفاع، توانائی، جہاز رانی، مالیاتی نظام اور مواصلات سمیت حساس بنیادی ڈھانچے اور اہم شعبوں پر سائبر حملے کرنے کا الزام ہے۔ یاریاب کا عہدہ محض انتظامی ذمہ داریوں سے بالاتر ہے کیونکہ وہ پاسداران انقلاب کے لیے کام کرنے والے حملہ آور یونٹس اور فرنٹ کمپنیوں کے نیٹ ورک کی براہ راست نگرانی کرتے ہیں۔
ان کی طرف منسوب ذمہ داریوں میں آپریشنل، مخصوص شعبہ جاتی اور اشرافیہ کے سائبر یونٹس کی دیکھ بھال شامل ہے۔ ان میں "شہید ہمت” یونٹ اور "شہید شوشتری” یونٹ شامل ہیں۔ ان کے ذمہ ایسے حملہ آور گروہوں کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی شامل ہے جنہیں قائم مقام قرار دیا جاتا ہے۔ ان گروپوں میں سب سے نمایاں "CyberAv3ngers” ہے جس نے حالیہ برسوں کے دوران اہم صنعتی نظاموں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے شہرت حاصل کی ہے۔
یاریاب کا منسوب کردار صرف حملہ آور یونٹس اور گروہوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کی ذمہ داری میں ان ایرانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کنٹرول بھی شامل ہے جو حکومتی سائبر سرگرمیوں کے لیے بطور پردہ استعمال ہوتی ہیں۔ موجودہ معلومات کے مطابق امریکی اور مغربی انٹیلی جنس ادارے یاریاب کو ایک فعال اور خطرناک کمانڈر سمجھتے ہیں۔ ان اداروں کا ماننا ہے کہ وہ ایسے حملے کرنے میں کامیاب رہے ہیں جو روایتی جاسوسی کے دائرے سے نکل کر مادی اثرات والی عملی تخریب کاری کے درجے تک پہنچ گئے ہیں۔

