اسلام آباد / لاہور:( حافظ نعیم سے )ملکی سیاسی منظرنامے پر ایک بڑا اور ہلا دینے والا بیان سامنے آیا ہے جہاں ایک سینیئر اور معروف سیاستدان نے کھل کر موجودہ نظام، ریاستی پالیسیوں، اور تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت پر کڑی تنقید کے تیر برسائے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے ایک جارحانہ اور انتہائی دلیرانہ خطاب میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ "گورا انگریز چلا گیا لیکن پیچھے کالا انگریز چھوڑ گیا ہے،” اور یہ کہ وہ کسی ایک جماعت کے رہنما کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی ذات اور ضمیر کی ترجمانی کر رہے ہیں۔
حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کی روایتی سیاست پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت چاہے اقتدار میں ہو یا باہر، سب نے اپنے اپنے خاندانوں کو سیاست پر مسلط کر رکھا ہے۔
کئی رہنما اپنے قائد کی بت پرستی کی حد تک چلے جاتے ہیں اور وہ غلط ہو یا صحیح، اس کے خلاف بولنے کی جرات نہیں رکھتے۔ انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ "جب میں جیل میں تھا تو بیٹھ کر سوچتا تھا کہ ہم نے ان تمام سالوں میں ملک کے لیے کیا کیا ہے؟ ہر وزیراعظم کو یہاں یہودی اور ایجنٹ بنا کر جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔”
ملکی سکیورٹی اور آئینی بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان اور آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، آنکھیں بند کر لینے سے وہ حالات تبدیل نہیں ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے پہلے ملک میں ایک ایسی منتخب حکومت لائی جائے جسے پوری قوم دل سے قبول کرے، کیونکہ ووٹ کسی کو پڑتا ہے اور منتخب کوئی اور ہی ہو جاتا ہے۔
انتظامی ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر چھوٹے انتظامی یونٹس اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے حامی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب سیاست اور جمہوریت کے لیے راستہ مسلسل محدود ہوتا جا رہا ہے، اور اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور عوامی مینڈیٹ کی عزت نہ کی تو اس کا نقصان ملک و قوم کے لیے ناقابلِ تلافی ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بظاہر خارجہ پالیسی میں بہت نام کمایا ہے لیکن اندرونی گھر کو بالکل خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں تنبیہ کی کہ اگر بار بار قانون کی پامالیاں کی جاتی رہیں تو ملک کے حالات کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتے، اور جس طرف آج ہم جا رہے ہیں، وہاں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔


