بھارت میں لاکھوں افراد پری ڈائبیٹیز کا شکار ہیں، ماہرین نے وزن، غذا، ورزش، نیند اور بلڈ شوگر پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا ہے
بھارت میں پری ڈائبیٹیز ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ملک میں تقریباً 10 سے 14 فیصد بالغ افراد، یعنی ہر سات سے آٹھ افراد میں سے تقریباً ایک شخص، پری ڈائبیٹیز کا شکار ہے۔ یہ ایسی حالت ہے جس میں خون میں شوگر کی سطح معمول سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ اسے ذیابیطس قرار دیا جائے۔ یہ مسئلہ بتدریج ایک خاموش صحت کے بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اسے بارڈر لائن ذیابیطس بھی کہا جاتا ہے۔
سب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ پری ڈائبیٹیز کی ابتدائی علامات پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس کیفیت کا شکار ہیں۔
پونے کے روبی ہال کلینک کے اینڈوکرائنولوجسٹ اور ڈائبیٹولوجسٹ ڈاکٹر سچن پنڈت کے مطابق، اگر اس حالت پر توجہ نہ دی جائے تو چند ہی سالوں میں یہ ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماری اور فالج کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ پری ڈائبیٹیز کو طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے ریورس کیا جا سکتا ہے۔
طرزِ زندگی میں تبدیلیاں کرکے ذیابیطس کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب یہ تبدیلیاں جلد شروع کی جائیں اور ان پر مستقل طور پر عمل کیا جائے۔
پہلا قدم وزن کو کنٹرول کرنا
زیادہ وزن والے افراد اگر اپنے وزن میں معمولی کمی بھی کرلیں تو جسم میں انسولین کا اثر بہتر ہونے لگتا ہے اور خون میں شوگر کو کنٹرول کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
وزن کم کرنے کے لیے ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ کی درمیانی شدت والی ورزش کرنے کا ہدف رکھیں، جیسے تیز چہل قدمی، سائیکل چلانا یا تیراکی۔ اس کے علاوہ ہفتے میں کم از کم دو دن اسٹرینتھ ٹریننگ بھی شامل کرنی چاہیے۔
اپنی غذا پر توجہ دیں
آپ کیا کھاتے ہیں، یہ بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر آپ پری ڈائبیٹیز کا شکار ہیں تو صرف چینی کے استعمال پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ مجموعی غذا کو بھی متوازن رکھنا ضروری ہے۔
اناج، سبزیاں، دالیں، پھل، گری دار میوے اور فائبر سے بھرپور دیگر غذائیں خون میں گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ کاربوہائیڈریٹس، میٹھے مشروبات، پراسیسڈ فوڈ اور ضرورت سے زیادہ کھانے سے پرہیز کرنا بھی ضروری ہے۔
بھرپور نیند لیں اور ذہنی دباؤ کم کریں
اچھی نیند لینا اور ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرنا بھی ضروری ہے۔ نیند کی کمی اور مسلسل ذہنی دباؤ ان ہارمونز کو متاثر کرسکتے ہیں جو بھوک اور میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں۔
بلڈ شوگر کی باقاعدگی سے جانچ کریں
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پری ڈائبیٹیز کو نظر انداز نہ کیا جائے، چاہے آپ میں کوئی واضح علامات نظر نہ آئیں، پھر بھی اپنی صحت پر توجہ دینا ضروری ہے، خون میں شوگر کی باقاعدگی سے جانچ اور ڈاکٹر سے مشورہ کرنے سے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا بروقت پتہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر سچن پنڈت کے مطابق پری ڈائبیٹیز ایک انتباہ ضرور ہے، لیکن ساتھ ہی یہ اپنی صحت اور طرزِ زندگی میں تبدیلی لانے کا ایک موقع بھی ہے،بہت سے افراد صحت بخش غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب وزن برقرار رکھنے اور اپنی صحت کی نگرانی کے ذریعے ٹائپ 2 ذیابیطس کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں یا اس کی رفتار کو سست کرسکتے ہیں۔
پری ڈائبیٹیز ایک وارننگ سائن ہے، جس پر بروقت کام کیا جاسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ مناسب اقدامات کے ذریعے پری ڈائبیٹیز کو قابو میں کیا جاسکتا ہے اور اسے ٹائپ 2 ذیابیطس میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔

