ملزم مبینہ طور پر کالج میں ہونے والی مختلف تقریبات اور کلاس روم سرگرمیوں کے دوران اساتذہ اور طلبہ کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرتاتھا-
کوچی : کیرالہ کے ارناکولم ضلع میں ایک کالج طالب علم کی گرفتاری کے بعد مبینہ اے آئی فوٹو مورفنگ اور فحش مواد کی آن لائن ترسیل کے ایک بڑے نیٹ ورک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ تری ککّارا کے بھارت ماتا کالج کے دوسرے سال کے بی بی اے (لاجسٹکس) طالب علم ایس سری ہری پر الزام ہے کہ وہ طالبات اور اساتذہ کی تصاویر اور ویڈیوز کو تبدیل کرکے انہیں فحش اور قابلِ اعتراض مواد میں تبدیل کرتا اور پھر ٹیلی گرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرتا تھا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ملزم کے موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے متعدد مبینہ طور پر مورف کی گئی تصاویر اور ویڈیوز ملی ہیں۔ تفتیش کار اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس سرگرمی میں صرف ایک شخص ملوث تھا یا اس کے پیچھے مزید افراد اور سوشل میڈیا گروپس بھی کام کررہے تھے۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق عام تصاویر کو ایک مخصوص آن لائن سروس یا اکاؤنٹ پر بھیجا جاتا تھا، جہاں انہیں مبینہ طور پر چند ہی سیکنڈ میں فحش یا عریاں تصاویر میں تبدیل کرکے واپس کیا جاتا تھا۔
اس معاملے میں یہ بات ابھی واضح نہیں ہوئی ہے کہ تصاویر تبدیل کرنے کا کام کسی خودکار اے آئی بوٹ کے ذریعے کیا جاتا تھا یا اس کے پیچھے کوئی شخص یا گروپ موجود تھا۔ پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹیلی گرام پر ایسے خصوصی گروپس بھی موجود تھے جہاں مبینہ طور پر تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کو مزید دوسرے گروپس تک پہنچایا جاتا تھا۔ تازہ تحقیقات میں پولیس کو ان تصاویر کی مبینہ خرید و فروخت اور اس سلسلے میں مالی لین دین کے شواہد بھی ملنے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس اور کالج حکام کے مطابق ملزم مبینہ طور پر کالج میں ہونے والی مختلف تقریبات اور کلاس روم سرگرمیوں کے دوران اساتذہ اور طلبہ کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرتا تھا، جنہیں بعد میں مصنوعی ذہانت یا دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کیا جاتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں خاص طور پر خواتین اساتذہ کی تصاویر کے استعمال کی بات سامنے آئی ہے۔ پولیس یہ بھی جانچ کررہی ہے کہ اس سرگرمی سے کتنے افراد متاثر ہوئے اور کتنی تصاویر یا ویڈیوز تیار کرکے آن لائن شیئر کی گئیں۔
طلبا کی جانب سے بعض نابالغوں کی تصاویر بھی اس طریقے سے تبدیل کیے جانے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، تاہم اس پہلو کی پولیس سے باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق مبینہ طور پر یہ سرگرمی یکم دسمبر 2025 سے 2 ستمبر 2026 کے درمیان جاری رہی۔ کالج انتظامیہ کو معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد اس نے داخلی سطح پر تحقیقات کیں اور پولیس سے رجوع کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایک سابق طالب علم نے یکم ستمبر کو ایک خاتون استاد کو اس معاملے سے آگاہ کیا، جس کے بعد کالج انتظامیہ نے معلومات کی جانچ کی اور پولیس کو اطلاع دی۔ کالج نے ابتدائی کارروائی کے بعد طالب علم کو ادارے سے خارج کردیا۔ سری ہری کی گرفتاری کے بعد پولیس نے اس کا موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ سائبر ماہرین کی مدد سے ان آلات کا فرانزک تجزیہ کیا جارہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ تصاویر کہاں سے حاصل کی گئیں، انہیں کس ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیل کیا گیا اور کن افراد یا گروپس تک پہنچایا گیا۔
تفتیش میں ٹیلی گرام اور انسٹاگرام پر موجود مبینہ گروپس، ان کے منتظمین اور تصاویر کی تقسیم کے سلسلے میں موجود ڈیجیٹل روابط بھی کھنگالے جارہے ہیں۔ اس معاملے نے اس وقت مزید سنگینی اختیار کرلی جب تحقیقات میں ایسے خصوصی سوشل میڈیا گروپس کا پتہ چلنے کی اطلاعات سامنے آئیں جہاں مبینہ طور پر مورف کی گئی تصاویر شیئر کی جاتی تھیں۔ طلبا نے الزام لگایا ہے کہ کالج کے بعض دیگر طلبا بھی اس سرگرمی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔
بعض اطلاعات میں بھارت ماتا کالج کے تقریباً آٹھ طلبا کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم کالج انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فی الحال دوسرے طلبہ کے ملوث ہونے کا کوئی قطعی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ پولیس اس پہلو کی تحقیقات کررہی ہے۔ پولیس نے اب ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے، جس کی نگرانی تری ککّارا کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کریں گے اور سائبر پولیس کے اہلکار بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ مزید گرفتاریاں ڈیجیٹل شواہد اور تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر ہوسکتی ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس کو ملزم کے ڈیجیٹل آلات سے ایسی معلومات ملی ہیں جن سے مبینہ طور پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ تیار کردہ تصاویر صرف شیئر ہی نہیں کی جاتی تھیں بلکہ بعض گروپس میں انہیں رقم لے کر فروخت بھی کیا جاتا تھا۔ پولیس نے ملزم کے مالی لین دین کی تفصیلات بھی حاصل کی ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ آیا ان لین دین کا تعلق مبینہ مورف شدہ تصاویر اور ویڈیوز کی فروخت سے ہے یا نہیں۔
واقعے کے خلاف کالج کے طلبہ نے احتجاج بھی کیا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ کالج انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کے باوجود پولیس کو اطلاع دینے میں تاخیر کی اور مبینہ طور پر ملزم کو مقامی سرپرست کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ اگر مزید افراد اس سرگرمی میں ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ کالج انتظامیہ نے تاہم کہا ہے کہ معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد اس نے کارروائی کی، طالب علم کو ادارے سے خارج کیا اور پولیس کو شکایت دی۔

