کراچی:شہرِ قائد میں اگست 2024 کے دوران پیش آنے والے ہولناک کارساز حادثے کے معاملے میں ایک اور اہم قانونی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں سٹی کورٹ کراچی نے امتناعِ منشیات کے مقدمے میں نامزد ملزمہ نتاشا کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں کارساز حادثے سے جڑے منشیات کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے ملزمہ کے خلاف عدالت میں کوئی بھی ٹھوس الزام یا جرم ثابت نہیں کیا جا سکا جس پر عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر ملزمہ نتاشا کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
اس حوالے سے ملزمہ کے وکیل فواد علی کچھی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کیمیکل ایگزمینر اور بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹس میں ملزمہ کے خون میں کسی قسم کی نشہ آور شے یا آئس (Ice) کی موجودگی ثابت نہیں ہو سکی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تفتیشی افسر نے حقائق کو چھپاتے ہوئے پولیس کی جانب سے لیے گئے خون کے سیمپلز کے ساتھ ٹیمپرنگ کی تھی۔
واضح رہے کہ اگست 2024 میں کراچی کے علاقے کارساز میں ایک تیز رفتار گاڑی بے قابو ہو کر سڑک پر موجود شہریوں پر چڑھ دوڑی تھی، جس کے نتیجے میں باپ اور بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا، تاہم قانونی کارروائی اور مقدمات کے مراحل طے پانے کے بعد ملزمہ نتاشا اس سے قبل مرکزی حادثے کے مقدمے سے بھی بری ہو چکی ہیں اور اب منشیات کے الزام سے بھی مکمل طور پر فارغ ہو گئی ہیں۔
کارساز باپ بیٹی ہلاکت کیس: اہم پیشرفت، ملزمہ نتاشا منشیات کے مقدمے سے بھی بری

