نیویارک:عالمی سطح پر حقوقِ نسواں (فیمینزم) کی تحریک کی سب سے توانا اور جاندار آواز، نامور امریکی صحافی اور کارکن گلوریا اسٹینم 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔
ان کی رحلت کی تصدیق ان کی قائم کردہ فاؤنڈیشن نے جمعرات کے روز اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے ذریعے کی، جس کے بعد دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
فاؤنڈیشن کے جاری کردہ جذباتی بیان میں کہا گیا ہے کہ، "گزشتہ روز گلوریا اسٹینم نیویارک شہر میں واقع اپنے گھر میں، ان چند چاہنے والوں کی موجودگی میں پرسکون انداز میں انتقال کر گئیں جو ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ زمین پر گلوریا کی تقریباً ایک صدی پر محیط زندگی انتہائی شان سے بسر ہوئی، اور انہوں نے آخری لمحے تک مساوات کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔” بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوگواران اور مداحوں کی جانب سے خراجِ تحسین کے طور پر پھول بھیجنے کے بجائے گلوریا کی فاؤنڈیشن کو عطیات دیے جائیں۔
حقوقِ نسواں کی تاریخ کا ایک روشن باب تمام ہوا
گلوریا اسٹینم بیسویں صدی کے اواخر میں امریکہ میں شروع ہونے والی خواتین کی دوسری لہر کی تحریک (Women’s Liberation Movement) کی صفِ اول کی رہنماؤں میں شمار ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنے جاندار قلم اور عزمِ صمیم کے ذریعے معاشرے میں صنفی مساوات، خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی رحلت کے ساتھ ہی فیمینسٹ تاریخ کا ایک انتہائی روشن اور تابناک باب تمام ہو چکا ہے، تاہم ان کے نظریات اور حقوقِ نسواں کے لیے دی گئی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

