مناسب مقدار میں پانی پینے سے گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن (UTI) سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پینا گردوں کے لیے نقصان دہ نہیں، بلکہ جسم میں پانی کی کمی کئی طرح کے صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ کتنی مقدار میں پانی پینا ضروری ہے:
جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق تیز دھوپ یا شدید گرمی والی جگہوں پر طویل عرصے تک کام کرنے سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی تیزی سے ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جب جسم میں پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے تو گردوں پر کام کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
اس حوالے سے دی لینسیٹ ریجنل ہیلتھ، ساؤتھ ایسٹ ایشیا جرنل میں شائع ہونے والی معلومات کے مطابق، شدید گرمی اور جسمانی مشقت میں کام کرنے والے کسانوں اور مزدوروں میں گردوں کی دائمی خرابی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین گردوں کے مسائل اور خون میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھنے سے بچنے کے لیے طرزِ زندگی اور خوراک میں تبدیلی کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ تربوز، کھیرے اور پالک جیسی پانی سے بھرپور غذائیں کھانے کی بھی تجویز دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ناریل پانی جسم میں پانی کی کمی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ ورزش کرنے، وزن کو متوازن رکھنے اور گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے شراب نوشی اور تمباکو نوشی سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے کتنا پانی ضروری ہے؟
مناسب مقدار میں پانی پینے سے گردوں کے فلٹریشن کے عمل کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے میں مدد ملتی ہے، جس سے گردے کی پتھری اور پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔
kidney research.uk کی ایک تحقیق کے مطابق، عام طور پر روزانہ 6 سے 8 گلاس پانی پینے کی صلاح دی جاتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شخص کے لیے پانی کی ضرورت یکساں نہیں ہوتی۔ جسم کو کتنے پانی کی ضرورت ہے، اس کا انحصار صحت، موسم، درجہ حرارت، جسمانی سرگرمی اور کام کی نوعیت پر بھی ہوتا ہے۔
جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے میں مددگار
ماہرین کے مطابق پانی پیشاب، پسینے اور فضلے کے ذریعے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ جسم کے درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے، جوڑوں کی حرکت کو آسان بنانے اور حساس ٹشوز کو نقصان سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جب جسم میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو یہ تمام عمل متاثر ہونے لگتے ہیں۔ پانی گردوں کے ذریعے جسم سے فاضل اور زہریلے مادوں کو قدرتی طور پر خارج کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم پانی پینے سے خون میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ چونکہ یورک ایسڈ گردوں کے ذریعے جسم سے خارج ہوتا ہے، اس لیے پانی کی کمی کی صورت میں گردے کی پتھری بننے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جسم میں پانی کی معمولی کمی بھی گردوں کے فلٹریشن کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ نیشنل کڈنی فاؤنڈیشن کی ایک تحقیق کے مطابق شدید ڈی ہائیڈریشن گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے سخت جسمانی مشقت یا ورزش کے دوران، خاص طور پر گرم اور مرطوب موسم میں جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنا ضروری ہے۔

