نوشہروفیروز:- ایم ظفر تگر
مورو سے نوشہروفیروز تک زیرِ تعمیر نیشنل ہائی وے کا کام سست روی کا شکار ہونے کے باعث روزانہ حادثات پیش آنے لگے ہیں۔ شہری سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شاہراہ پر بڑھتے حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف اللہ والی چوک سے احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو شدید نعرے بازی کرتے ہوئے نیشنل پریس کلب نوشہروفیروز پہنچ کر احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔احتجاجی ریلی میں شریک نوجوانوں خالد راجپر، نوید راجپر، شعبان کھوسو، اسد چانڈیو اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مورو سے نیشنل ہائی وے کی تعمیر کا کام تین سال قبل شروع کیا گیا تھا، تاہم آج تک مکمل نہیں ہوسکا۔ شاہراہ جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے اور تعمیراتی کام کے دوران ٹریفک کی روانی کو محفوظ بنانے کے لیے مناسب انتظامات بھی نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ڈرائیورز کی جانب سے تیز رفتاری اور لین کی خلاف ورزی کے باعث گزشتہ تین سال کے دوران مورو سے نوشہروفیروز تک مبینہ طور پر تقریباً 200 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ روزانہ کسی نہ کسی ماں کی گود اجڑ رہی ہے۔ چند روز قبل نوشہروفیروز بائی پاس پر دو سگے بھائی بھی ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے۔
مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے افسران، ڈپٹی کمشنر نوشہروفیروز اور متعلقہ حلقوں کے منتخب ایم پی ایز سے مطالبہ کیا کہ نیشنل ہائی وے کا تعمیراتی کام فوری طور پر تیز کیا جائے اور ٹھیکیدار کو کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا پابند بنایا جائے، تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا اور شاہراہ پر مزید کوئی شخص جاں بحق ہوا تو اس حادثے کی ایف آئی آر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف درج کرانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ بصورتِ دیگر نیشنل ہائی وے کو مکمل طور پر بند کرکے سخت احتجاج کیا جائے گا، جس کی ذمہ داری متعلقہ افسران اور ٹھیکیدار پر عائد ہوگی۔

