پنجاب میں ’ون میپ‘ اور ’پنجاب ڈیٹا لیک‘ سمیت جدید ڈیجیٹل نظام کا اجراء؛ پہلا مخصوص ’اے آئی آفس‘ قائم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا
گوئی یانگ / لاہور:پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چین کے شہر گوئی یانگ میں منعقدہ عالمی "بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو 2026” کے دوران ایک فکر انگیز اور تاریخی خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے تعلقات کو ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تقریب کے آغاز پر انہوں نے صوبہ گوئی ژو کی حکومت اور منتظمین کا شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ وہ پاک چین دوستی کے عظیم ورثے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا گویانگ، گویز ہو میں منعقدہ بین الاقوامی بگ ڈیٹا ایکسپو کے موقع پر پارٹی سیکرٹری سے ملاقات اور خطاب https://t.co/FvHpNFIOHs
— PMLN (@pmln_org) August 29, 2026
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین کی لازوال دوستی اب زمینی رابطوں سے آگے بڑھ کر ڈیٹا، جدت اور مشترکہ نظریات کی ایک نئی راہداری کی طرف گامزن ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت، محمد نواز شریف کی تاریخی خدمات اور وزیراعظم شہباز شریف کے مسلسل عزم سے یہ رشتہ روز بروز مضبوط ہو رہا ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ 12 کروڑ 80 لاکھ آبادی پر مشتمل صوبہ پنجاب کی حکمرانی نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ڈیٹا کو محض جمع نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اسے عملی اقدامات اور عوامی بہبود میں تبدیل ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب میں ایک خودمختار، محفوظ اور ذہین ڈیجیٹل بنیاد رکھی جا رہی ہے:
ون میپ (OneMap) سسٹم: حکومت کے 31 محکموں سے حاصل ہونے والے 12 ٹیرا بائٹس سے زیادہ جغرافیائی ڈیٹا اور 6 ہزار سے زائد ڈیٹا سیٹس کو مربوط کر کے ایک ایسا نظام بنایا گیا ہے جو منصوبہ بندی، زمین کے تنازعات کے حل اور دانشمندانہ شہری ترقی میں مدد دے رہا ہے۔ اسے پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری سے بھی منسلک کیا جا رہا ہے۔
پنجاب ڈیٹا لیک اور کلاؤڈ: صوبے میں پہلا مخصوص ڈیٹا سینٹر اور خودمختار کلاؤڈ سسٹم قائم کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیٹا کو محفوظ بنا کر اس کی حقیقی قدر سے استفادہ کیا جا سکے۔
پہلا اے آئی آفس: پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے اپنا مخصوص ’مصنوعی ذہانت آفس‘ (AI Office) قائم کیا ہے تاکہ بہتر فیصلے، تیز رفتار عوامی خدمات اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیف سٹی پراجیکٹس اور جدید ڈیجیٹل پولیسنگ کی مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹیکنالوجی کس طرح عام شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیٹا کی اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ کسانوں کو بروقت معلومات دے سکے، کمزور خاندانوں کی درست نشاندہی کرے اور کاروباری افراد کی مالی ساکھ کو آسان بنائے پائے۔ انہوں نے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور انفراسٹرکچر کے قائدین کو پرزور دعوت دی کہ وہ توانائی، کمپیوٹنگ، کلاؤڈ اور ٹوکنائزیشن کے شعبوں میں پنجاب کے ساتھ شراکت داری کریں۔
مریم نواز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب اب ٹیکنالوجی کا محض صارف نہیں بننا چاہتا بلکہ ٹیکنالوجی کی تخلیق اور جدت میں برابر کا شراکت دار بن کر ابھرے گا۔

