تہران :ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اپنی تنقید کا اعادہ کرتے ہوئے ان پر خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے تہران میں قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی سے ملاقات کے دوران مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے غلط فیصلوں اور ناپختہ تخمینوں کے ذریعے امریکہ کے وسائل کو ضائع کیا۔
باقر قالیباف نے یہ بھی کہا کہ ان پالیسیوں ، جنہیں انہوں نے ناپختہ اور غلط تخمینوں پر مبنی قرار دیا، نے نہ صرف خطے کے مستقبل کو نقصان پہنچایا بلکہ ایرانی عوام کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا اور خطے میں بڑے پیمانے پر بدامنی کی صورتحال پیدا کردی۔
قطری وزیراعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی راستے کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق قطری وزیر خارجہ نے قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مکالمہ ہی اختلافات سے نمٹنے اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اجلاس کے دوران قطری اور ایرانی فریقین نے خطے کی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت، کشیدگی کو کم کرنے اور مکالمے کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تجویز کردہ مرحلہ وار فریم ورک پر بھی بات چیت کی۔
Mohsen Rezaei issued a stark warning to the US through Qatari intermediaries: should America take any aggressive action against Iran, we will inflict a historic blow on its military and economic assets, one that will be remembered for ages. pic.twitter.com/B21qe2yGX9
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) August 27, 2026
اس فریم ورک میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک مشترکہ عارضی بحری راہداری کا قیام اور آبنائے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر عمل درآمد شامل ہے۔
یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کے ساتھ فی الوقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا بحری ناکہ بندی اور پابندیاں جاری ہیں اور ایرانی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی ایرانی حکام پر تنقید کی ہے۔
انہوں نے "ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایرانی عوام اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ایرانی نظام بیرونِ ملک بھاری رقم ضائع کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی نظام کو اپنے دہشت گرد نمائندوں پر اربوں ڈالر بہانے کے بجائے یہ رقم اپنے عوام پر خرچ کرنی چاہیے۔



