ریگن، بش خاندان اور کینیڈی جیسے نامور صدور فہرست سے خارج، سیاسی حلقوں میں طنز یہ میمز کا طوفان
واشنگٹن:سیاسی میدان میں اپنے نرالے انداز اور جرات مندانہ دعوؤں کے لیے مشہور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایسی صدارتی رینکنگ جاری کر دی ہے جس نے ناقدین کو ہنسنے پر مجبور کر دیا ہے اور حیرت کی کوئی بات نہیں کہ انہوں نے اس فہرست میں خود کو عظیم ترین قرار دیا ہے۔
یہ پورا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سی این این پر ہیری اینٹن کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں ایک پول کے ذریعے یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ریپبلکن ووٹرز میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اور تعریف امریکی تاریخ کے دو بڑے ناموں، ابراہم لنکن اور رونالڈ ریگن سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس عوامی سروے سے خوش ہو کر ٹرمپ نے خود کو امریکی تاریخ کے صف اول کے صدور کی صف میں کھڑا کر دیا۔
ٹرمپ کی جانب سے تیار کردہ اس انوکھی فہرست میں سیاسی شخصیات کی تقسیم نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے:
حیرت انگیز معافی: جن رہنماؤں پر ٹرمپ ماضی میں شدید تنقید کرتے رہے ہیں، ان میں سے سابق صدر بل کلنٹن کو حیرت انگیز طور پر "اوسط” (Average) کی کیٹیگری میں جگہ دی گئی ہے۔
ناکامی کا تمغہ: کسی کو بھی اس پر حیرت نہیں ہوئی کہ ٹرمپ نے اپنے روایتی حریفوں باراک اوباما اور موجودہ صدر جو بائیڈن کو جمی کارٹر اور وارن جی ہارڈنگ کے ساتھ سیدھا "فیلورز” (ناکام ترین) کی فہرست میں دھکیل دیا۔
لاپتہ صدور: دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست سے رونالڈ ریگن، جان ایف کینیڈی، جارج ایچ ڈبلیو بش، جارج ڈبلیو بش، اور ہیری ٹرومین سمیت کئی اہم اور قدآور صدور کو بالکل غائب ہی کر دیا گیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ فہرست جاری کرنا محض اپنے آپ کو تاریخ کے بہترین حکمرانوں میں شامل کرنے کی ایک اور کوشش ہے، جس نے سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کے نئے در وا کر دیے ہیں۔


