واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی سبکدوش ہونے والی پریس سیکرٹری کرولین لیویٹ (Karoline Leavitt) کے جانشین کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کا جواب اپنے مخصوص طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ اپنی ایک تصویر شیئر کی، جس میں انہیں وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم کے پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا: "سب سے بہترین پریس سیکرٹری” (The Best Press Secretary)۔ صدر کی اس آن لائن ٹرولنگ نے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کرولین لیویٹ کے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا، جنہوں نے بتایا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں اور فیملی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں۔ تاریخ کی سب سے کم عمر ترین وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری لیویٹ، جو رواں ماہ 24 اگست کو 29 سال کی ہو رہی ہیں، ماہ کے آخر میں اپنے عہدے سے باضابطہ طور پر دستبردار ہو جائیں گی۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ استعفیٰ کے بعد ان کے اہم بیرونی مشیروں میں شامل رہیں گی۔
نئے پریس سیکرٹری کے لیے ممکنہ نام
لیویٹ کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سے ہی میڈیا اور قدامت پسند تجزیہ کاروں میں نئے پریس سیکرٹری کے ناموں پر گرما گرم بحث جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے دونوں ادوار میں چار خواتین کے بعد اس بار کسی مرد کو اس عہدے پر تعینات کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں شان سپائسر (Sean Spicer) واحد مرد پریس سیکرٹری رہے ہیں جنہوں نے 2017 میں خدمات انجام دی تھیں۔
نئے ممکنہ امیدواروں میں قدامت پسند سی این این مبصر سکاٹ جیننگز، بریٹبارٹ کے واشنگٹن بیورو چیف میتھیو بوائل، اور سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور کے پریس سیکرٹری آری فلیشر کے نام گردش کر رہے ہیں۔


