پشاور انورزیب خان بے نقاب نیوز
اسلام آباد میں سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کی قیام گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی ، علامہ راجا ناصرعباس ، اسد قیصر ، جنید اکبر اور سلمان اکرم راجا شریک ہوئے ، اجلاس میں مولانا عبدالغفور حیدری ، کامران مرتضٰی ، مولانا عبدالواسع اور انجینئر ضیاء الرحمان بھی شریک ہوئے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن رہنماؤں کےاجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں آئیے بات کریں تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، یہاں ایک ہاتھ ہے جو قوم کو تھپڑ مار رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہر شخص اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھتا ہے ، حکومت صرف تسلیاں دے رہی ہے، ہم گزشتہ 20 سال سے تسلیاں سن رے ہیں،حالات میں بہتری نہ آنے کی وجہ سےمعیشت پر اثر پڑ رہا ہے۔
کب تک خاموش رہا جائے،کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں، جو بیانیہ سرکار کی طرف سے دیا جارہا ہے وہ غلط ہے۔
نئے صوبوں کی باتیں کی جارہی ہیں، کس امید پر اس طرح کی باتیں کی جارہی ہیں۔ آگ لگی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں آو گھر تقسیم کریں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آگ ہو اور صوبے بنیں۔
اتفاق کیا گیا ہے پارلیمنٹ میں ایک جوائنٹ اپوزیشن بنائی جائے، اس کا مقصد پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے مؤثر اقدامات کرنے ہیں، فیصلہ کیا ہے اپوزیشن کی طرف سے اپنا مؤقف قوم تک پہنچائیں گے۔
تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجہ نے کہا جس تھپڑ کا ذکر مولانا نے کیا وہ ہم سب کے چہروں پر پڑ رہا ہے، یہ رویہ ملک کیلئے مہلک ہے ، ہمیں پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

