”اس رات کیا ہوا تھا، کون جانتا ہے؟“، سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی
واشنگٹن:امریکی تاریخ کے ایک انتہائی ڈرامائی سیاسی موڑ پر سابق امریکی خاتونِ اول جِل بائیڈن نے اپنے شوہر اور سابق صدر جو بائیڈن کے حوالے سے ایک اور بڑا اور سنسنی خیز بیان دے دیا ہے۔ 2024 کے صدارتی مناظرے کے دوران جو بائیڈن کی غیر معمولی حالت اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے متعلق انہوں نے ایک بار پھر شبہات کا اظہار کیا ہے۔
میزبان جیمی کرن لیما کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جِل بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ممکن ہے اس رات سابق صدر جو بائیڈن کے مشروب یا کسی اور چیز میں کوئی نشہ آور شے یا زہر ملا دیا ہو؟ اس پر سابق خاتونِ اول نے جواب دیا: "کون جانتا ہے؟ کون جانتا ہے؟”
جِل بائیڈن نے اپنی کتاب "ایسٹ ونگ کا ایک منظر” میں بھی اس رات کا احوال لکھا ہے۔ انہوں نے انٹرویو میں دہرایا کہ جب وہ مناظرے کے دوران اپنے شوہر کو زبان لڑکھڑاتے اور الجھن کا شکار دیکھ رہی تھیں تو انہیں یوں محسوس ہوا جیسے انہیں فالج (اسٹروک) کا دورہ پڑ رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ موت کی حد تک ڈر گئی تھیں کیونکہ انہوں نے جو بائیڈن کو اس سے پہلے کبھی اس حالت میں نہیں دیکھا تھا۔
اگرچہ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انہیں فالج کا کوئی دورہ نہیں پڑا اور وہ صحت مند ہیں، تاہم جِل بائیڈن کا یہ کہنا کہ وہ نہیں جانتیں کہ پسِ پردہ کیا ہوا تھا، نے سیاسی گلیاروں میں نئی چہ مگوئیوں کو جنم دے دیا ہے۔
سابق صدر کے دفتر کی جانب سے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم جِل بائیڈن کی جانب سے ان یاداشتوں کی تشہیر اور 2024 کے تلخ واقعات کو دوبارہ سامنے لانے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بائیڈن کے سابق ترجمان اینڈریو بیٹس سمیت کئی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ شکست کے اس دردناک باب کو اب بار بار دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے بائیڈن خاندان کے ماضی میں الجھے رہنے کا تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے۔

