واشنگتن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کے گراف میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، اور ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ان کی مقبولیت (Approval Rating) ان کے صدارتی دور کی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
رائٹرز اور اپسوس (Reuters/Ipsos) کی جانب سے پیر کے روز مکمل ہونے والے ایک تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق، صرف 33 فیصد امریکیوں نے وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ 64 فیصد عوام نے ان کی پالیسیوں سے شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں ان کی مقبولیت 35 فیصد تھی، جو اب مزید گر کر ان کی سابقہ مدتِ صدارت کے دسمبر 2017 کے نچلی ترین ریکارڈ کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت اس وقت بری طرح متاثر ہوئی جب انہوں نے قریبی حلیف اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر فضائی حملوں کا حکم دیا۔ اس کے نتیجے میں شروع ہونے والی کشیدگی نے عالمی تیل کی تجارت کے پانچویں حصے کو مفلوج کر کے رکھ دیا، جس سے امریکی گھرانوں پر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بھاری بوجھ پڑا ہے۔ یہ صورتحال نومبر میں ہونے والے مڈٹرم کانگریشنل انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی سخت مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور طویل جنگوں سے بچنے کے وعدے کیے تھے، اور ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف یہ تنازع چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گا، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔ تاہم، ایران کی طویل مزاحمت اور آبنائے ہرمز میں تیل کی تجارت بند رہنے کی وجہ سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
سروے کے مطابق تقریباً 80 فیصد امریکیوں (جن میں 87 فیصد ڈیموکریٹس اور 71 فیصد ریپبلکنز شامل ہیں) کا ماننا ہے کہ امریکا کی ایران کے خلاف یہ جنگ اب ’’ایک طویل عرصے تک جاری رہے گی‘‘۔ اس کے برعکس صرف 16 فیصد لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ یہ آن لائن پول ملک بھر کے 1,166 بالغ امریکی شہریوں سے رائے لے کر کیا گیا تھا۔

