ٹیکسلا: مشہور ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گلمانہ کے مبینہ قتل کے معاملے میں ٹیکسلا پولیس کو اہم ترین پیش رفت حاصل ہو گئی ہے جہاں تفتیشی ٹیموں نے ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے فرار ملزمان کے دو اہم سہولت کاروں سمیت چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے سیف سٹی کیمروں اور مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل پر کوئی نمبر پلیٹ نہیں لگی تھی جبکہ ملزمان نے شناخت چھپانے کے لیے ہیلمٹ پہن رکھے تھے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ٹیکسلا میں موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے ٹک ٹاکر شمسو بی بی کو قتل اور ان کی کم عمر بہن کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق 14 اگست کے روز مقتولہ کو کاشف عرف کاشی نامی شخص کی جانب سے ایک پراسرار فون کال موصول ہوئی تھی جس میں انہیں فوری طور پر گھر سے باہر آنے کا کہا گیا تھا۔
فون کال پر باہر آنے کے بعد شمسو بی بی اپنی 15 سالہ بہن عاصمہ اور بھائی نعمت اللہ کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہوئیں، جیسے ہی وہ ایک مقامی پٹرول پمپ کے قریب پہنچیں تو پہلے سے تاک میں بیٹھے موٹر سائیکل سواروں نے ان کی کار پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک گولی شمسو بی بی کی گردن میں لگی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں بے قابو ہونے والی کار ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی جس سے ان کی چھوٹی بہن عاصمہ شدید زخمی ہو گئیں۔
مقتولہ کے والد فضل صاحبزادہ نے میڈیا اور پولیس کو بتایا تھا کہ جب وہ اسپتال پہنچے تو انہوں نے مردہ خانے میں اپنی بیٹی کی لاش کی شناخت کی۔ پولیس نے گرفتار کیے جانے والے چاروں افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ اصل قاتلوں تک پہنچ کر اس بہیمانہ واردات کے محرکات کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ٹک ٹاکر شمسو بی بی قتل کیس: دو سہولت کاروں سمیت 4 مشتبہ افراد گرفتار

