واشنگٹن: ‘ایکسیوس-جنریشن لیب’ کے ایک تازہ ترین عوامی سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ 18 سے 34 سال کی عمر کے 27 فیصد امریکی نوجوان یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ یا ان کا کوئی جاننے والا اس وجہ سے نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا کیونکہ آجر (مالک) نے ان کی جگہ مصنوعی ذہانت (AI) کو ترجیح دی۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ حقیقی طور پر اے آئی کی وجہ سے ملازمتوں کے خاتمے کا تناسب اس سے کم ہے، تاہم یہ سروے نوجوان نسل (Gen Z اور نوجوان ملینیئلز) میں پائی جانے والی گہری شکایات، بداعتمادی اور معاشی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔
سروے کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے کے معاملے میں نوجوانوں کی بڑی اکثریت یعنی 36 فیصد نے ڈیموکریٹس (26%) اور ریپبلکنز (22%) دونوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کسی بھی فریق کو درست قرار نہیں دیا۔ اس کے علاوہ، 96 فیصد نوجوان کرائے، اشیائے خوردونخوا، گیس اور یوٹیلیٹی بلز کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر شدید پریشان ہیں۔
معیشت، ہاؤسنگ اور سیاست سے متعلق اہم اعداد و شمار:
معیشت کی حالت: 48 فیصد نوجوانوں نے ملکی معیشت کو "خراب” قرار دیا، جبکہ 78 فیصد کا خیال ہے کہ اس وقت نئی نوکری تلاش کرنا مشکل ہے۔
گھر کا حصول: نصف سے زائد نوجوانوں کا خواب اپنا گھر بنانا ہے، تاہم 28 فیصد کا ماننا ہے کہ اگلے دس سال میں ان کے لیے گھر خریدنا ناممکن یا انتہائی مشکل ہوگا۔
سیاسی مقبولیت (2028 کے انتخابات): سروے میں موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی اور ایران کے ساتھ جنگ پر 64 فیصد سے زائد نوجوانوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹس میں کمالہ ہیرس (28.7%) جبکہ ریپبلکنز میں نائب صدر جے ڈی وینس (31.5%) سرفہرست نظر آئے۔
سوشلزم بمقابلہ سرمایه دارانہ نظام: سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 68 فیصد نوجوان "سوشلزم” کے بارے میں مثبت یا غیر جانبدارانہ سوچ رکھتے ہیں، جبکہ "سرمایہ داری” (Capitalism) کے حق میں صرف 47 فیصد نوجوان نظر آئے، جو نظامِ حکومت اور معاشی ڈھانچے سے ان کی شدید خفگی کو ظاہر کرتا ہے۔


