واشنگٹن: معتبر امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک نئی رپورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ ترکیہ کے دوران سیکیورٹی کے نام پر کیے گئے ڈرامائی اقدامات کی حقیقت کھول دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام نے ترکیہ میں ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کے خطرے سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات پر کھل کر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا، کیونکہ یہ اطلاعات امریکا کی اپنی تیار کردہ نہیں بلکہ اسرائیل کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے اس خطرے کی اطلاع کو ’زیادہ مضبوط اور قائل کرنے والی‘ نہیں سمجھا اور فوری طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو اپنے ان خدشات سے آگاہ کر دیا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار نے انٹیلی جنس معلومات کو ’کم اعتماد‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ صرف اسرائیل سے حاصل کردہ ڈیٹا تھا۔
اس کے باوجود وائٹ ہاؤس نے آٹھ جولائی کو ایک انتہائی خفیہ آپریشن کے تحت صدر ٹرمپ کو ایئر فورس ون سے ہٹا کر ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے متبادل فوجی طیارے (سی 32 اے) میں منتقل کیا، جبکہ اصلی طیارے کو بطور ’ڈیکॉय‘ (دھوکے کا جہاز) استعمال کیا گیا۔ اس دوران وزیر خارجہ مارکو روبیو اور اسٹیفن ملر سمیت عملے اور صحافیوں پر مشتمل سو سے زائد افراد کو اصل صورتحال سے بے خبر اسی ڈیکॉय طیارے میں سفر کرنا پڑا۔
بعد ازاں جب طیارے میں صحافیوں نے ٹرمپ سے براہِ راست پوچھا کہ کیا ایران کی جانب سے ایئر فورس ون پر حملے کا کوئی قابلِ اعتماد خطرہ تھا؟ تو ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں جواب دیا، "مجھے ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔ میں ان کی فہرست میں آپ سے پہلے نمبر پر ہوں، لیکن اگر میں گیا تو آپ بھی جائیں گے۔”
”سب اسرائیل کا ڈراما تھا!“ ترکیہ میں ٹرمپ پر مبینہ قاتلانہ حملے کی انٹیلی جنس رپورٹس پر CIAکے شدید شکوک!

