لندن+ریاض: جمعرات کے روز بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی اور توانائی کے مؤقر عالمی اداروں کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سال 2026 کے لیے تیل کی مجموعی طلب کے تخمینوں میں کمی کیے جانے کے بعد یہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم، مشرق وسطیٰ کے غیر یقینی حالات اور ایندھن کی سپلائی سے جڑے خدشات نے تیل کی قیمتوں کو مزید بڑی گراوٹ سے بچائے رکھا ہے۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کے سودے 1.29 ڈالر (یعنی 1.5 فیصد) کمی کے بعد 87.69 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.30 ڈالر یا 1.6 فیصد کم ہو کر 81.97 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
ترقی پذیر اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ نے اپنی تازہ ماہانہ آئل مارکیٹ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سال 2026 کے دوران عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کا تخمینہ گھٹا کر اب صرف 5 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ‘انٹرنیشنل انرجی ایجنسی’ (IEA) نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ انہیں رواں برس عالمی تیل کی کھپت میں 16 لاکھ بیرل یومیہ کمی کا سامنا کرنے کی توقع ہے، جبکہ اس سے قبل گزشتہ ماہ یہ تخمینہ 10 لاکھ بیرل یومیہ لگایا گیا تھا۔ عالمی توانائی ادارے کا ماننا ہے کہ خطے میں جاری جنگ اور تنازعات کے باعث ایندھن کی محدود رسد اور بلند قیمتوں نے صارفین کی طلب کو شدید متاثر کیا ہے۔

